آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 235
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 235 واہمہ اس طرح معدوم ہو جاتا ہے جیسے طلوع آفتاب پر رات کی تاریکی۔الله اس دور کے وہ مسلمان جو مدینہ کے باشندے تھے انصار کہلاتے تھے اور یہ تقریباً سارے کے سارے اوس اور خزرج کے قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔اس کے علاوہ چند افراد نے یہود میں سے اسلام قبول کیا تھا اور کچھ وہ مسلمان تھے جو مدینہ کے علاوہ دوسری بستیوں کے رہنے والے تھے۔مکہ میں بھی اسلام کی ترویج کلیۂ بند نہ ہو سکی تھی اور کفار مکہ کی شدید ایذاء رسانی کے باوجود وہاں قبول اسلام کا سلسلہ ہنوز جاری تھا۔اس مدنی دور کے مسلمانوں کی بھاری اکثریت انصار پر مشتمل تھی اور انصار کا بلا جبر و اکراہ اسلام قبول کرنا بھی ایک ایسی واضح اور نکھری ہوئی حقیقت ہے کہ دوست تو دوست دشمن بھی یہ کہہ نہیں سکتے کہ انصار کو مہاجرین کی تلوار نے مسلمان بنایا تھایا ان کے قبول اسلام میں تلوار کو ذرہ بھر بھی کوئی دخل تھا۔آنحضرت ﷺ نے اوس وخزرج کے ساتھ سرے سے کوئی جنگ ہی نہیں لڑی۔پس بزور شمشیر مسلمان بنانے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔یہود میں سے مسلمان ہونے والوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی اور ان میں سے بھی کسی پر اس شک کی گنجائش موجود نہیں کہ وہ تلوار کے خوف سے مسلمان ہوا بلکہ ان کا مسلمان ہونا ایسے شدید مخالف اور خطرناک حالات میں ہوا جبکہ خود مسلمانوں کا مستقبل بھی بظاہر سخت مخدوش تھا۔بیرونی قبائل کے نومسلمین بھی جن کی تعداد انصار کی نسبت بہت ہی تھوڑی تھی قطعاً کسی تلوار کے خوف سے مسلمان نہیں ہوئے بلکہ سخت مخطر ناک حالت میں اسلام قبول کیا۔اب رہیں اس دور کی جنگیں اور مہمات تو ان کے نتیجہ میں تلوار کے ڈر سے مسلمان ہونے والوں کی زیادہ سے زیادہ امکانی تعداد جنگی قیدیوں کی ہی ہوسکتی ہے۔اس امر کی چھان بین کے + لئے ضروری ہے کہ ہم ہجرت سے لے کر مسلح حدیبیہ تک کے تمام غزوات وئر ایا پر نظر ڈالیں۔ان غزوات وسر ایا کی مکمل تعداہ پچاس ہے۔غزوہ پائیر نیہ سے بعض لوگ غلطی سے جنگ مراد لے لیتے ہیں لیکن یہ خیال لاعلمی کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔غزوہ سے مراد محض ایسی مہم ہے جس میں رسول اللہ نفس نفیس شریک