آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 234
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 234 باب پنجم جمعیت آباد تھی اور اس ایک بستی پر بھی ان کا مکمل قبضہ نہ تھا بلکہ یہود کے تین متمول قبائل اس کے ایک بڑے حصہ پر قابض تھے اور اوس وخزرج کے تمام افراد بھی حلقہ بگوش اسلام نہ ہوئے تھے۔ان کی مثال ایسی ہی تھی جیسے ایک مضبوط پہلوان کے مقابل پر ایک کمزور بچہ کو اپنے دفاع کی اجازت دے دی جائے۔وہ پہلوان تو زرہ بکتر میں ملبوس ہو ، اس کے ہاتھ میں نیزہ ہو اور تلوار زیب کمر ہو اور ایک قد آور جنگی گھوڑے پر سوار ہو مگر وہ بچہ ننگے پاؤں ، نیم ھمر یاں ، ایک ٹوٹی ہوئی تلوار لے کر اس کے مقابل پر نکلے۔سارے عرب کی قوت تو مدینہ میں بسنے والے ان چند مسلمانوں کے مقابل پر بہت ہی زیادہ تھی۔صرف جنگ بدرہی میں حملہ آور دشمنوں اور مسلمانوں کی دفاعی فوج کا موازنہ کیا جائے تو وہ کچھ اسی قسم کا موازنہ ہوگا۔پس اس دور کو بھی میں سخت مظلومی کا دور ہی کہوں گا۔مانا کہ دفاع کی اجازت مل چکی تھی۔تیسرا دور وہ دور ہے جو صلح حدیبیہ سے شروع ہو کر فتح مکہ تک پھیلا ہوا ہے۔یہ صلح اور امن کا دور تھا جس میں کفار مکہ کی طرف سے مسلمانوں پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا تا ہم یہو داور بعض دیگر قبائل کی عہد شکنیوں کے نتیجہ میں بعض غزوات وسر ایا وقوع پذیر ہوئے۔مکی دور دور اول سے متعلق جو تیرہ سال کی انتہائی مظلومی کا عرصہ ہے اسلام کے اشد ترین معاندین بھی یہ دعوی نہیں کرتے کہ اس دور میں اسلام کی طرف سے کسی بھی غرض کے لئے تلوار اٹھائی گئی ہو۔ہاں یہ ضرور تھا کہ دشمنان اسلام کی تلواروں کے خوف کے باوجود بہت سے متلاشیان حق اسلام میں داخل ہوتے رہے۔پس مکہ میں ہونے والے تمام مسلمان جو بعد میں مہاجرین کہلائے اس الزام سے قطعا بر می ہیں کہ ان کے قبول اسلام میں تلوار کو کوئی دخل تھا۔ہجرت تا صلح حدیدیه دوسرے دور سے متعلق اس خیال سے کہ اس دور میں مسلمانوں نے اپنے دفاع کے لئے تلوار اٹھائی۔شاید بعض بدظن طبیعتیں یہ کہہ سکیں کہ ہو سکتا ہے اس دفاعی تلوار کے خوف سے اسلام ہوسکتا پھیلا ہو۔مگر اس دور کے اسلام قبول کرنے والوں پر اگر ایک اچٹتی ہوئی نگاہ بھی ڈالی جائے تو یہ