آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 233
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 233 نہ حضرت خلیفہ المسح الاول اس کے رڈ میں ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:۔رد بعض لوگ آنحضرت ﷺ کے تلوار پکڑنے پر اعتراض کرتے ہیں۔یہ ان کی بڑی بیوقوفی ہے۔ہم پوچھتے ہیں کہ کیا انحضرت ﷺ کے بالمقابل عرب کے پاس تلوار ہی تھی۔اعتراض تو تب ہوتا کہ ان کے پاس تلوار نہ ہوتی اور اہل اسلام پھر ان پر تلوار چلاتے۔جب مقابلہ پر بھی تلوار ہے تو پھر اعتراض کس بات کا علاوہ ازیں مسلمان تو قانون کے پابند تھے ان کو حکم تھا کہ عورتیں اور بچے اور بوڑھے قتل نہ کئے جائیں۔پھل دار درخت نہ جلائے جاویں لیکن مخالف تو کسی ایسے قانون کے پابند نہ تھے۔“ ☆ البد ر۲ / جون ۱۹۰۳ صفحه ۱۶۵) اس اعتراض کا جواب اور مولانا مودودی کے غلط نظریہ کا رڈ کرتے ہوئے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب اپنی تصنیف لطیف تذہب کے نام پر خون میں تحریر فرماتے ہیں: ہم آنحضرت ﷺ کے دھوٹی نبوت سے لے کر آپ کے وصال تک کی تاریخ اسلام پر ایک مستحسانہ نظر ڈال کر دیکھیں کہ کسی دور میں شاید کسی اور طریق سے جبری طور پر مسلمان بنانے کا کوئی ثبوت ملتا ہو۔مثلاً ہو سکتا ہے کہ فتوحات کے معابعد خوفزدہ مخالفین کو شدت اسلام قبول کرنے کی تلقین کی گئی ہو یا ان کی جان بخشی یا آزادی کے لئے مسلمان ہونا بطور شرط کے رکھ دیا گیا ہو۔حضرت رسول کریم ﷺ کی زندگی کو فتح مکہ تک تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔اول وہ انتہائی مظلومی کا دور جو دعلومی نبوت سے لے کر ہجرت تک ممتد ہے اور جسے عرف عام میں مکی دور کہا جاتا ہے۔دوسرے وہ مدنی دور جو سنہ ہجرت سے لے کر صلح حدیبیہ تک پھیلا ہوا ہے۔یہ دور بھی دراصل ایک سخت مظلومی ہی کا دور ہے کیونکہ اگر چہ مسلمانوں کو دفاع کی اجازت دے دی گئی تھی مگر وہ اپنے دشمن کے مقابل پر کیا بلا ظالعہ اداور کیا بلحاظ جنگی ساز و سامان کوئی بھی حیثیت نہ رکھتے تھے۔خطہ عرب میں صرف مدینہ ہی ایک ایسی بستی تھی جہاں مسلمان