آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 232
فرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 232 باب پنجم معبودیت اور اس کے رسولوں کی رسالت وغیرہ وغیرہ ضروریات دین پر یقین لاوے تب مسلمان کہلاوے اور ظاہر ہے کہ دلی یقین جبر و اکراہ سے کبھی ممکن نہیں ہے۔میں بڑی جرات سے کہتا ہوں کہ حضور علیہ السلام اور ان کے راشد جانشینوں کے زمانے میں کوئی شخص جبر وا کراہ سے مسلمان نہیں بنایا گیا بلکہ محمود غزنوی اور عالمگیر کے زمانے میں بھی کوئی شخص عاقل و بالغ جبر سے مسلمان نہیں کیا گیا۔دنیا میں تاریخ موجود ہے صحیح تاریخ سے اس الزام کو ثابت کیجئے میں نے زمانہ نبوی اور خلافت راشدہ کے وقت اور محمود، عالمگیر کی تاریخ کو اچھی طرح دیکھ بھال کر یہ دعوی کیا ہے۔زماند رسالت مآب میں اور خلافت راشدہ میں صلح اور معاہدہ امن کے بعد گھل مذہب کے لوگ مذہبی آزادی حاصل کر لیتے تھے۔خیبر کے یہودی، بحرین اور غسان کے عیسائی حضرت خاتم الانبیاء کے اور خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ کے وقت شام کے یہو داور عیسائی اسلام کی رعایا تھے اور اپنے مذہبی فرائض کی بجا آوری میں بالکل آزاد تھے۔عالمگیر کے عہد میں بڑے بڑے عہدوں پر ممتاز ہندوستان کے پرانے باشندے اپنی بت پرستی پر قائم دکھلائی دیتے۔اگر عالمگیر کی لڑائیوں سے اسلام پر الزام ہے تو عالمگیر نے تانا شاہ سے جو ایک سید تھا دکن کے ملک میں جنگ کی۔پھر اپنے مسلمان باپ اور عیسائیوں کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ مخفی نہیں۔پس عالمگیر کی جنگ مذہبی جنگ کیوں خیال کی جاتی ہے؟ عالمگیر نے کبھی کسی ہندو کو تلوار اس سبب سے نہیں لگائی کہ وہ ہندو تھا اور کبھی اس نے زبر دستی ان کو مسلمان نہیں کیا۔ان کی جو مذہبی عبادت اور رسومات جو قدیم سے چلی آتی تھیں ان کو نہیں روکا۔محمود کی نسبت کہیں تاریخ سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس نے اشاعت اسلام اور دعوت اسلام میں ہمت صرف کی ہو۔گجرات میں اتنے دنوں تک پڑا رہا مگر ایک ہندو کو مسلمان نہ بنایا۔اپنے بھائی مسلمان امیر اسمعیل سے جنگ کی۔کیا وہ لڑائی بھائی کو مسلمان بنانے کے لئے تھی اور ہند کے حملے تو راجہ جے پال نے خود کرائے جس نے محمود سے لڑنے کی ابتداء کی حالانکہ محمود کا تو یہ منشا تھا کہ تاتار کے بلا د کو فتح کرے نہ ہند کو۔تصدیق براہین احمدیہ صفحه ۴۸،۴۷)