آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 231
فرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 231 باب پنجم بزور شمشیر شائع ہوا ہے اور تلوار ہی کے زور سے قائم رہا۔جن مؤرخین عیسائیوں نے آنحضرت کا تذکرہ یعنی لائف لکھی ہے آپ پر طعن کرنا انہوں نے اپنا شعار کر لیا ہے اور ان کے طعن کرلیا صا الله۔کی وجہ فقط یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ نے اپنے تئیں اور اپنے رفقاء کو دشمنوں کے حملوں سے بچایا۔یہ بیچ ہے کہ بعض برگزیدگان خدا دنیا میں وقتافوقتاً پیدا ہوئے ہیں اور سوء اتفاق اور گردشِ تقدیر سے خدا کی راہ میں اور اعلائے کلمتہ اللہ کی کوشش میں شہید ہوئے ہیں اور بعض لوگ ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے خلل دماغ کی وجہ سے اس امر کا دعوی کیا جس کی تکمیل ان سے نہ ہو سکی۔الغرض مخبوط بھی گزرے ہیں اور مجذوب بھی ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی مجنونانہ حرکات کی سزا پائی مگر اس سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ مثلاً اگر حضرت مسیح مصلوب ہوئے یا مسیلمہ کذاب اپنی کڑا ہیت اور مجذوبیت کی سزا کو پہنچا تو معاذ اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان کی تقلید کرنا فرض تھا اور بغیر اپنی رسالت کے اتمام و تکمیل کے شہید ہو جانا لا زم تھا ؟ قوانین اسلام کے موافق ہر قسم کی آزادی مذہبی اور مذہب والوں کو بخشی گئی جو سلطنت اسلام کے مطیع و محکوم تھے۔لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرۃ: ۲۵۷) دین میں کوئی اجبار نہیں۔یہ آیت کھلی دلیل اس امر کی ہے کہ اسلام میں اور اہل مذاہب کو آزادی بخشنے اور ان کے ساتھ نیکی فصل الخطاب ایڈمیشن دوم جلد اول صفوی ۳ ۸۴،۸) کرنے کا حکم ہے۔تصدیق برا امین احمدیہ میں بیان فرماتے ہیں: اسلام کے معنے صلح کے ساتھ زندگی بسر کرنا چین سے رہنا۔کیونکہ یہ لفظ اسلام سے مشتق ہے جس کے معنے ضلع اور آشتی کے ہیں۔بعضے پادریوں کی دشمنانہ تحریر نے نہیں بچ کہتا ہوں ، آپ کو دھوکا دیا ہے۔جبر و اکراہ سے اسلام اور تصدیق قلبی کا حصول ممکن نہیں۔قرآن کی دوسری سورۃ کو جو مدینہ میں نازل ہوئی اور جس میں جہاد کا حکم ہو ایڑ ھ لیجئے اور غور کیجئے آپ کا کلام کہاں تک سچ ہے۔لَا إِكْرَاهُ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ اس میں زبر دستی نہیں اور حق و باطل واضح ہو گیا۔اسلام میں شرط ہے کہ آدمی صدق دل سے باری تعالی کی الوہیت اور اس کی