آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 230
فرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 230 باب پنجم ان کی نظیر ملنا مشکل ہے۔اس وفادار قوم نے تلواروں کے نیچے بھی اپنی وفاداری اور صدق کو نہیں چھوڑا بلکہ اپنے بزرگ اور پاک نبی کی رفاقت میں وہ صدق دکھلایا کہ بھی انسان میں وہ صدق نہیں آسکتا جب تک ایمان سے اس کا دل اور سینہ منور نہ ہو۔غرض اسلام میں جبر کو دخل نہیں۔اسلام کی لڑائیاں تین قسم سے باہر نہیں (۱) دفاعی طور پر یعنی بطریق حفاظت خود اختیاری۔(۲) بطو ر سزا یعنی خون کے عوض میں خون۔(۳) بطور آزادی قائم کرنے کے یعنی بغرض مزاحموں کی قوت توڑنے کے جو مسلمان ہونے پر قتل کرتے تھے۔پس جس حالت میں اسلام میں یہ ہدایت ہی نہیں کہ کسی شخص کو جبر اور قتل کی دھمکی سے دین میں داخل کیا جائے تو پھر کسی خونی مہدی یا خونی مسیح کی انتظار کرنا سراسر لغو اور بیہودہ ہے"۔مسیح ہندوستان میں، روحانی خزائن جلد نمبر ۱۵ صفحہ ۱۲۰۱۱) ☆ حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب اس الزام کے رد میں فرماتے ہیں: ہمیں کتب مغازی میں (خواہ کیسی ہی نا قابل وثوق کیوں نہ ہوں ) کوئی ایک بھی ایسی مثال نظر نہیں آتی کہ آنحضرت نے کسی شخص کسی خاندان کسی قبیلے کو بزور شمشیر و اجبار مسلمان کیا ہو۔سرولیم میور کا فقرہ کیسا صاف صاف بتاتا ہے کہ شہر مدینہ کے ہزاروں مسلمانوں میں سے کوئی ایک شخص بھی بزور و اکراہ اسلام میں داخل نہیں کیا گیا اور مکہ میں بھی آنحضرت کا یہی رویہ اور سلوک رہا بلکہ ان سلاطین عظام (محمود غزنوی، سلطان صلاح الدین ، اور تنگ زیب) کی محیا نہ اور صحیح تو اریخ میں کوئی ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ کسی شخص کو انہوں نے بالجبر مسلمان کیا ہو۔ہاں ہم ان کے وقت میں غیر قوموں کو بڑے بڑے عہدوں اور مناصب پر ممتاز و سرفراز پاتے ہیں۔پس کیسا بڑا ثبوت ہے کہ اہل اسلام نے قطع نظر مقاصد ملکی کے اشاعت اسلام کے لئے کبھی تلوار نہیں اُٹھائی۔آنحضرت ﷺ کے دشمنوں ، اسلام کے مخالفوں نے اکثر یہ طعن کیا ہے کہ آپ کا دین