آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 225 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 225

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 225 باب چہارم حالانکہ وہ ٹکڑے ایک گل کا حصہ ہیں۔اور ان کو مکمل سے الگ کیا ہی نہیں جا سکتا۔اور اس گل میں وہ اس طرح جوے ہوئے ہیں کہ ان کو کسی اور شئے کا جزو قرار دیا ہی نہیں جاسکتا۔اس کے لئے دیکھو سورۃ فاتحہ کے شروع میں بسم اللہ پر بحث۔جسے مصنف "بینابیع الاسلام" نے زردشتی کتب کی چوری قرار دیا ہے۔دوسرے معنے جو کلام چرا لینے کے میں نے یہ کہتے ہیں کہ الہی کلام کے بعض ٹکڑوں کو لے کر غلط طور پر انہیں دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔یہ بھی سب نبیوں سے ہوتا چلا آیا ہے۔ہر نبی کے الہام کو اس کے مخالف بگاڑ کر پیش کرتے رہے ہیں تا لوگوں کو ان کے خلاف جوش دلائیں۔وہ اصل مطلب کو بگاڑ بگاڑ کر ان کے الہامات کو پھیلاتے رہے ہیں اور چوروں کی طرح ان کا نا جائز استعمال کرتے رہے ہیں۔یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اپنے انبیاء کے نشانات اور تجزات سے مدد کی۔اور ایک طرف تو دلائل سے معترضین کے غلط معنوں کو رد کیا اور دوسری طرف قہری اور قدرت نمائی کے نشانات کے ذریعہ سے اپنے نبیوں کی تائید کر کے ان کے دشمنوں کو بلاک کروایا۔اور اس طرح اپنے کلام کی حفاظت کی۔بعض دفعہ نبی کے اتباع بھی دین سے بے بہرہ ہو کر اور بے دینی کا شکار ہو کر دین کو بگاڑ لیتے ہیں اور کلام الہی کے معنے کچھ کے کچھ کر دیتے ہیں اور اس کی خوبیوں کو غلط تفسیروں سے چھپا دیتے ہیں۔تب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے اتباع میں سے کسی کو شہاب ثاقب یا شہاب مبین بنا کر یعنی اپنے تازہ الہام دے کر اور اپنے نشانات سے موئید کر کے آسمان روحانی سے نازل کرنا ہے نا وہ ایسے شیاطین کی سرکوبی کر کے کلام الہی کو پھر اس کی اصل جگہ پر لے آئیں اور اس طرح وہ کلام جو بکھر جانے اور تباہ ہونے کے خطرہ میں پڑ گیا تھا پھر محفوظ ہو جائے اور اس کے صحیح مطالب پھر لوگوں پر آشکار ہو جائیں۔اوپر کے مضمون سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان آیات میں ستاروں سے انبیا ء مراد ہیں اور شہاب مبین یا شہاب ثاقب سے مرا دوقت کا نبی ہے۔کیونکہ ہر نبی ایک ستارہ ہے اور آسمان روحانی کے لئے زینت کا موجب ہے لیکن ہر نبی ہر وقت شہاب کا کام