آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 224 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 224

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 224 باب چہارم اس لفظ کو ان تحقیر آمیز معنوں میں استعمال کرتے۔جو یہودیوں میں رائج تھے۔پادری صاحب کی آخری دلیل کہ اس زمانہ میں علماء کا تب رکھا کرتے تھے ایک اور شد ید تاریخی غلطی ہے۔پادری صاحب نے عباسی خلافت کے زمانہ کا کوئی واقعہ پڑھ کر اس سے زمانہ جاہلیت پر استدلال کر لیا۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ عرب میں کوئی علماء ہوتے تھے نہ وہ کاتب رکھا کرتے تھے۔یہ ایک ایسا دعوی ہے جس کی تائید میں قومی رواج تو الگ رہا۔ایک مثال بھی مسیحی مورخ نہیں پیش کر سکے۔مکہ کے ایک ہی عالم کا ذکر تا ریخ میں ہے یعنی ورقہ بن نوفل اور وہ خود لکھا کرتے تھے۔ان کا کوئی کا تب نہ تھا۔افسوس ہے کہ مسیحی مصنف اپنے تعصب میں تاریخی حقائق بھی اپنے پاس سے بنا لیتے ہیں۔" ☆ ( تفسیر کبیر جلد ۳ ص ۵۱ تا ۵۳) دوسری کتب سے تعلیمات اخذ کرنے کا الزام انبیاء پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے کلام چرایا ہے اور دوسری کتب سے اخذ کیا ہے۔یہ الزام آپ پر بھی لگایا گیا۔اس الزام کے جواب میں حضرت مصلح موعود سورۃ الحجر آیت ۱۹ کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ حملہ سب نبیوں سے زیادہ ہوا ہے۔مسیحی اور آریہ مصنفین کثرت سے قرآن کریم کی تعلیمات کے ٹکڑے لے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ان کے مذاہب کی کتب میں پائے جاتے ہیں۔لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے نور کو ظاہر کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ جس ٹکڑے کو تم نے لے لیا ہے وہ تو ایک لمبی زنجیر کی کڑی ہے اور وہ ساری زنجیر ایسے وسیع مطالب رکھتی ہے کہ تمہارے خواب و خیال میں بھی موجود نہیں۔تو ان کی پردہ دری ہو جاتی ہے۔ایسے ہی حملہ کرنے والوں میں دینا بیچ الاسلام کا مصنف ہے۔جس نے نہایت دیدہ دلیری سے قرآنی مطالب کے ٹکڑوں کو لے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ گویا وہ پہلے مذاہب کی کتب سے لئے گئے ہیں۔