آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 223 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 223

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 223 باب چہارم عجیب استدلال ہے۔حیرت کا مقام ہے کہ ہر وقت آپ کے سامنے رہنے سے تو لوگوں کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ آپ لکھنا پڑھنا جانتے ہیں لیکن ایک امی کے لفظ سے ان کو یقین ہو گیا کہ آپ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے۔سوال یہ ہے کہ آیا آپ کے سامنے والوں کو دھوکا لگا تھا یا بعد میں آنے والوں کو۔اگر کہو سامنے والوں کو تو ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہ آپ لکھنا پڑھنا جانتے ہیں کیسے دھو کا لگ سکتا تھا اور اگر کہو بعد والوں کو دھوکا لگا تو سوال یہ ہے کہ دلیل تو یہ دی گئی ہے کہ لوگوں نے یہ خیال کر کے کہ آپ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے اور پھر بھی ایسی کتاب بنالی ہے یہ سمجھ لیا کہ یہ ایک معجزانہ کمال ہے۔اور معجزہ کے طور پر قرآن کریم کو صحابہ کے زمانہ سے پیش کیا جاتا ہے۔پس اگر اس کے معجزہ ہونے کی یہی دلیل تھی تو صحابہ جو جانتے تھے کہ آپ لکھنا پڑھنا جانتے ہیں۔کس دلیل پر اسے معجزہ قرار دیا کرتے تھے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ عرب تو آپ کی زندگی میں مسلمان ہو گئے تھے اور وہی عربی زبان کے معجزہ کو سمجھ سکتے تھے۔پس ان پر تو اس دھو کے کا کوئی اثر نہ ہوسکتا تھا اور بعد میں آنے والے عجمی عربی زبان کے کمالات کو سوائے شاذ و نادر کے سمجھ نہیں سکتے تھے۔پس اس دھو کے سے ان پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا تھا پھر اس غلط نہی سے قرآن کریم کے معجزہ ہونے کا نتیجہ کس نے نکالا۔یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ امی کے معنی عربی زبان میں ان پڑھ کے بھی ہیں اور اصل معنی ماں سے نسبت رکھنے والے کے ہیں اور اسی وجہ سے اس کے معنی ان پڑھ کے بھی ہیں کیونکہ وہ ویسا ہی رہتا ہے جیسا کہ پیدا ہوا۔اور میرے نزدیک پاکیزہ کے بھی ہیں۔کیونکہ نوزائیدہ بچہ پاک ہوتا ہے اور انہی معنوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔یہودی لوگ جو عربوں کو امی کہہ کر پکارتے تھے تو حقارت کے طور پر ان کے جاہل ہونے کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔اب کیا یہ بات کوئی عقلمند تسلیم کر سکتا ہے کہ قرآن کریم میں یہ لفظ اپنے اصلی معنوں میں تو استعمال نہیں ہوا لیکن ان معنوں میں استعمال ہوا ہے جسے ایک دشمن قوم حقارت کے لئے استعمال کیا کرتی تھی۔قرآن کریم کو رسول کو یم مصلی اللہ علیہ وسلم کا ہی کلام سمجھ لو۔پھر بھی کیا عقل اجازت دیتی ہے کہ آپ اپنی اور اپنی قوم کی نسبت