آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 222
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 222 باب چہارم لوگ علم کے طرف راغب نہ تھے اور کچھ لیاقت و قابلیت نہ رکھتے تھے لیکن اگر یہ حدیث صحیح بھی ہو تو ایک شخص جو ہدایت دینے اور قرآن لکھوانے کا دیر سے عادی ہو چکا ہو۔اس کے لئےس اور ب کے لئے ہدایت دینا کچھ مشکل نہیں۔اور نہ اس کے لئے پڑھنے کی شرط ہے۔بالکل ممکن ہے کسی شخص نے کسی وقت کسی تحریر کے پڑھنے میں دیر کی ہوا۔آپ نے پوچھا ہو کہ دیر کی کیا وجہ ہے تو اس نے عرض کیا ہو کہ س کے دندانے ملے ہوئے تھے یاب لمبی نہ تھی اس لئے جلدی پڑھا نہ گیا تو آپ نے سمجھ لیا کہ اس کے دندانے کھلے ہونے چاہئیں اور ب لمبی ہونی چاہئے اور اس وجہ سے معاویہ کو آپ نے ہدایت دی ہوتا کہ تحریر مشتبہ نہ ہو جائے۔ہمارے ملک میں عورتیں روٹی پکاتی ہیں۔مرد بعض دفعہ انہیں کہہ دیتے ہیں کہ گول دائرہ بناؤ۔اب کوئی اس سے یہ سمجھ لے کہ شاید ہم بڑے اچھے روٹی پکانے والے ہیں کیونکہ ہم ہدایت دے رہے ہیں تو یہ اس کی غلطی ہو گی۔پس س کے دندانوں کو کھلا کرنے اور ب کو لمبا کرنے کا حکم دینے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور لکھنا جانتے تھے۔آپ کے قلم دوات منگانے سے استدلال کرنا بھی غلط ہے۔کیونکہ قلم دوات حضور ساری عمر منگاتے رہے۔جب قرآن مجید لکھواتے تھے تو قلم دوات منگواتے تھے۔اس سے یہ کیونکر ثا بت ہو گیا کہ آپ لکھنا بھی جانتے تھے اقرا باسم ربک کی آیت بھی کوئی دلیل نہیں کہ آپ لکھنا پڑھنا جانتے تھے کیونکہ قرآت کے معنی صرف لکھا ہوا پڑھنے ہی کے نہیں ہیں بلکہ دوسرے کی بات کو دوہرانے کے لئے بھی یہ لفظ آتا ہے۔جو شخص قرآن مجید کو زبانی اچھی طرح پڑھتا ہو۔اس کی نسبت خواہ وہ اندھا ہو۔عربی زبان میں کہیں گے هو يُحْسِنُ قِرَاةَ القُرآن پس اقرأ سے لکھا ہوا پڑھنے کا استدلال کرنا کسی صورت میں درست نہیں صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی قرآنی وحی ہوئی اور حضرت جبرائیل نے آپ سے اقرأ کہا تو اس وقت اس نے کوئی تحریر آپ کے سامنے نہیں رکھی تھی پس اقرأ کے یہ معنی نہیں کہ دیکھ کر پڑھے بلکہ یہ معنی ہیں کہ جو میں کہتا ہوں اسے دہرا۔ریورنڈ ویری صاحب کا یہ استدلال بھی کہ لوگوں کو امی کے لفظ سے دھوکا لگ گیا ایک