آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 221
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 221 باب چہارم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں پرورش پائی تھی کیونکہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو طالب کی حالت غربت کو دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی کو بچپن میں ہی اپنے گھر میں لے آئے تھے اور حضرت علی نے آپ ہی کے گھر پر پرورش پائی تھی (الایام فی خلفاء الاسلام ص ۱۹۹) پس اگر حضرت علی نے اوائل عمر میں ہی لکھنا پڑھنا سیکھا تھا تو یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا نتیجہ تھا اور کوئی عقلمند نہیں کہہ سکتا کہ کس طرح ممکن ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی کو تعلیم دلائی تھی تو آپ کے چچانے آپ کو تعلیم نہ دلائی ہو۔تعلیم دلانا تو زمانہ کے حالات اور مربی کے اپنے خیالات پر منحصر ہوتا ہے اور یہاں زمانہ بھی مختلف ہے اور مربی بھی الگ الگ ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم کے رائج کرنے کا شوق تھا۔آپ نے تعلیم دلائی۔آپ کے دادا اور چچا کو اپنے زمانہ کے دستور کے مطابق شوق نہ تھا انہوں نے کوشش نہ کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شوق تعلیم کا یہ حال تھا کہ بڑی عمر میں کئی صحابہ نے تعلیم حاصل کی۔حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بڑی عمر میں مدینہ جا کر عبرانی سیکھی۔دوسری دلیل۔اگر آپ لکھنا نہ جانتے تو اتنے بڑے اہم تجارتی کام کو کس طرح کر سکتے۔یہ اعتراض بھی یورپ کی موجودہ حالت پر قیاس کر کے کیا گیا ہے۔ایشیا میں اب بھی ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ بغیر تعلیم کے لوگ بڑے بڑے تجارتی کام کرتے ہیں۔تاریخ سے ثابت ہے کہ مکہ کے لوگ لکھنے کو زیادہ اچھا نہیں سمجھتے تھے۔اور صرف چند لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے لیکن تاجر سینکڑوں تھے تجارت کے لئے قافلے کے قافلے جایا کرتے تھے۔پس یہ کہنا کہ جو تا جر جاتے تھے۔پڑھے ہوئے ہوتے تھے غلط اور قیاس مع الفارق ہے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خدیجہ نے ایک غلام میسرہ نامی جو پڑھا لکھا تھا۔آپ کے ساتھ کر دیا تھا۔پس اس سے یہ دلیل اور بھی کمزور ہو جاتی ہے۔حضرت معاویہ کے متعلق جو کہا گیا ہے کہ ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے س اور اللہ ب ٹھیک لکھنے کے لئے کہا۔اول تو یہ حدیث ایسی معتبر نہیں۔بنوامیہ اور بنو عباس میں اس قد روشنی تھی کہ بنو عباس کے زمانہ میں بہت سی ایسی روایات گھڑی گئی ہیں جن میں یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ