آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 220
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 220 باب چہارم میں خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ اسے لکھنا نہیں آتا بلکہ یہ کہا ہے کہ خدا تعالیٰ چاہتا تو اس تعلیم کو یہ رسول پیش نہ کرتا۔اور خدا تعالیٰ اس تعلیم کو نازل نہ کرتا پس اس جگہ لکھنے یا نہ لکھنے کا سوال ہی نہیں۔نہ کفار نے اس جگہ یہ سوال کیا ہے کہ یہ تعلیم تم اپنے ہاتھ سے لکھتے ہو کہ اس کے جواب میں لکھنے کا سوال اٹھایا جاتا۔ان کا مطالبہ تو یہ تھا کہ اس تعلیم کو بدل دو اور ان کی غرض یہ تھی کہ اگر یہ بدل دیں گے تو ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہوگا نہ بدلیں گے تو ہم قوم کو جوش دلائیں گے کہ دیکھو قومی اتحاد کے لئے یہ اتنی قربانی بھی نہیں کر سکتا۔پس جب آیت کے وہ معنی ہی نہیں جو پادری صاحب نے سمجھے ہیں تو اعتراض خود بخود ہی باطل ہو گیا۔لیکن بفرض محال اگر یہ ہی سمجھ لیا جائے کہ اس آیت میں آپ کے علم کتابت کے جاننے یا نہ جاننے کا سوال اٹھایا گیا ہے تو بھی پادری صاحب کے اعتراض فضول اور بودے ہیں۔پہلی دلیل کہ حضرت علی کے ساتھ ایک ہی گھر میں پل کر کس طرح ممکن تھا کہ علی تو تعلیم پائیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نہ پائیں کوئی دلیل نہیں اور صرف اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ریورنڈ ویری صاحب تاریخ سے بالکل نا واقف ہیں۔جو لوگ تاریخ کا تھوڑا سا بھی علم رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر میں قریباً انتیس سال کا فرق تھا اس قدر فرق جن کی عمر میں ہو ان کی نسبت یہ کہنا کہ وہ ایک ساتھ ایک گھر میں تربیت پا رہے تھے ایک ایسی بعید از عقل بات ہے کہ جسے غالباً پادری ویری اور ان کی طرح کے چند لوگ ہی جو تاریخ اسلامی سے نا واقف ہیں صحیح سمجھ سکتے ہوں گے۔جس وقت حضرت علی پیدا ہوئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی حضرت خد بچہ سے ہو چکی تھی اور آپ ان کے گھر میں آپکے تھے۔اور خد بچے نے اپنا سب مال آپ کے سپر د کر دیا تھا۔اور آپ ایک مالدار رئیس کی حیثیت پاچکے تھے۔پس ایک جگہ دونوں کا تر بیت پانا ایک بے دلیل اور خلاف عقل دھوئی ہے لطف یہ ہے کہ تاریخ ہمیں پادری صاحب کے اس دھوئی کے بالکل خلاف بتاتی ہے۔تاریخ سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک گھر میں پرورش نہیں پائی۔بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول کریم