آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 219
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 219 باب چهارم س“ کے دندانوں کو واضح کرو۔چہارم۔انہوں نے اپنی وفات سے پہلے قلم دوات منگائی تھی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لکھنا جانتے تھے۔اب سوال یہ ہوتا ہے کہ فن کتابت انہوں نے کب سیکھا تھا۔بعض مفسرین کہتے ہیں کہ خدا نے انہیں اسی طرح سکھایا تھا۔جس طرح الہام سکھایا تھا یعنی الہاماً لکھنا پڑھنا بتایا تھا۔اور وہ اس کی سند میں۔اقرأ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ کو پیش کرتے ہیں۔یہ لکھ کر ویری صاحب کہتے ہیں کہ یہ رائے کہ وہ لکھنا پڑھنا جانتے تھے تو ان کی رائے ہے اور اس آیت سے ثابت ہے کہ آپ کو پڑھنا لکھنا آتا تھا۔لیکن یہ امر یہاں سے نہیں نکلتا کہ ان کو یہ علم معجزانہ طور پر سکھایا گیا تھا۔اور نہ یہ نکلتا ہے کہ اس سے پہلے وہ لکھنا پڑھنانہ جانتے تھے۔پھر ویری صاحب لکھتے ہیں۔اگر کوئی یہ پیش کرے کہ آپ لکھنے کے لئے کا تب رکھا کرتے تھے تو اس دلیل سے ثابت نہیں ہوتا۔کہ آپ کو لکھنا نہ آتا تھا کیونکہ کاتبوں کا رکھنا اس وقت کے بڑے بڑے عالموں میں رائج تھا۔پھر پادری ویری صاحب خود ہی سوال اٹھاتے ہیں کہ پھر یہ خیال کہاں سے پیدا ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھنا نہ آتا تھا۔اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قرآن مجید میں النبی الامی آتا ہے۔اس الامسی کے لفظ سے مسلمانوں کو دھوکا لگا ہے کہ آپ ان پڑھ تھے۔حالانکہ اس لفظ کے استعمال کی وجہ یہ تھی کہ یہو د عربوں کو امی کہا کرتے تھے۔اس لئے النبی الامی کے معنی قرآن میں یہ تھے کہ غیر اسرائیلی اور غیر یہودی نہیں۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ جو یہ غلط نہی ہوئی کہ آپ امی (ان پڑھ ) ہیں۔اس سے آپ کے بھومی کے پھیلنے میں بڑی مدولی۔کیونکہ یہ قرآن کریم کے معجز نما ہونے کی دلیل بن گیا حالانکہ مجموعی نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بچپن سے ہی پڑھے ہوئے تھے۔یہ ویری صاحب کے اعتراضات کا خلاصہ ہے اب ان کا جواب حسب ذیل ہے: (۱) آیت کی تفسیر میں میں بتا چکا ہوں کہ اس آیت میں آپ کے پڑھنے لکھنے کی طرف اشارہ نہیں بلکہ پاکیزہ زندگی کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ سیاق و سباق سے ظاہر ہے۔کفار کا یہ سوال تھا کہ اس کتاب کی تحریر کو بدل دیں بلکہ یہ مطالبہ تھا کہ اس کی تعلیم کو بدل دیں۔اور جواب