آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 218 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 218

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 218 باب چهارم پس یقینا وہ غلام عبرانی یا یونانی میں انجیل پڑھتا تھا اور عربی میں اس کا مفہوم بیان نہ کر سکتا تھا۔اس طرح اس اعتراض کو رد کر دیا گیا۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسا کہ جبیر نے کہا تھا کہ قلْ هُوَ يُعَلِّمُنِي جبیر آخر کار مسلمان ہو گیا تھا۔عبد اللہ بن ابی سرح نے مرتد ہونے پر اس کا راز کفار کو بتا دیا تھا اور وہ اسے سخت تکالیف دیتے تھے۔آخر فتح مکہ پر آنحضرت ﷺ نے روپیہ دے کر اسے آزاد کر وا دیا۔اس سے جب الله پوچھا گیا تو اس نے کہا میں نہیں سکھاتا بلکہ وہ مجھے سکھاتے تھے۔“ ☆ انوارالعلوم جلد ۱۲ صفحه ۴۳۹ تا ۴۴۹) اعتراض کہ آپ لکھنا پڑھنا جانتے تھے سورۃ یونس کی آیت سے ا کی تفسیر میں عیسائی پادری کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں:۔دو بعض مسیحی مصنفوں نے اس آیت پر اعتراض کیا ہے چنانچہ ریورنڈ ویری صاحب جو ان میں سے قرآن کریم کے مفسر ہیں اس آیت کے نیچے سیل (ایک دوسرا انگریز جو قرآن کا مترجم تھا ) کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں کہ اس نے لکھا ہے۔کہ جب اس عمر تک میں تمہارے اندر رہا ہوں اور نہ میں نے کسی سے پڑھا نہ علماء کی مجلس میں بیٹھا۔اور نہ بھی شعر یا خطبہ کہا۔تو اب اس بڑھاپے کی عمر میں میری نسبت کس طرح خیال کیا جا سکتا ہے کہ یہ عبارتیں میری اپنی تصنیف ہیں۔اس پر پادری ویری صاحب اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔(۱) کیا یہ مجیب بات نہیں کہ علی کے ساتھ ایک ہی گھر میں پل کر لی تو تعلیم پائے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ پائیں۔دوم - کیا یہ تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ سالوں تک ایک اہم تجارتی کام کرنے کے باجود انہیں لکھنا نہ آتا ہو۔سوم۔آخری سالوں میں آپ یقیناً پڑھنا جانتے تھے کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ آپ نے حضرت معاویہ کو جو آپ کے کاتبوں میں سے ایک کا تب تھے حکم دیا۔کہ " ب سیدھی ڈالو اور