آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 217
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 217 باب چہارم اصل بات یہ ہے کہ سورۃ نحل میں یہ سوال ہی نہیں کہ کوئی اسے مضمون بنا دیتا ہے بلکہ یہ ذکر ہے کہ نا دان لوگ ایک ایسے شخص کی نسبت یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ محمد رسول اللہ کو سکھاتا ہے جو خود جمی ہے۔یعنی اپنا مفہوم اچھی طرح بیان نہیں کر سکتا تھا۔صرف تھوڑی سی عربی جانتا تھا۔( عجمی کے یہ بھی معنی ہیں کہ جو اپنا مفہوم اچھی طرح ادا نہ کر سکے چنانچہ لغت میں یہ معنی بھی لکھے ہیں )۔اس کا جواب اللہ تعالیٰ یہ دیتا ہے کہ کہ دوسرے کا قول انسان دوطرح نقل کر سکتا ہے۔ایک تو اس طرح کہ اس کا مطلب سمجھ کر اپنے الفاظ میں ادا کر دے اور دوسرا طریق یہ ہے کہ اس کے الفاظ رٹ کر ادا کر دے۔جیسے طوطا میاں مٹھو کہتا ہے۔نقل انہی دو طریق سے ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم جانتے ہو کہ جس شخص کی طرف تم یہ بات منسوب کرتے ہو وہ اپنا مطلب عربی زبان میں پوری طرح ادا نہیں کر سکتا پس جب وہ مطلب ہی بیان نہیں کر سکتا تو وہ رسول کریم ﷺ کو مضامین کس طرح سمجھاتا ہے کہ وہ عربی میں اس کو بیان کر دیتے ہیں۔یہ جواب ہے آدھے حصے کا۔دوسری صورت یہ ہو سکتی تھی کہ اس کے قول کو نقل کیا جاتا۔مگر یہ کس طرح ہو سکتا تھا وہ تو عبرانی میں کہتا تھا اور اس کی بات اگر دہرائی جاتی تو عبرانی ہوتی۔مگر قرآن تو عبرانی یا یونانی میں نہیں جس میں تو رات یا انجیل لکھی ہوئی ہیں بلکہ عربی میں ہے۔پس جب نہ وہ شخص اپنا مطلب عربی میں ادا کر سکتا ہے نہ قرآن کسی دوسری زبان کی نقل ہے تو اس کی طرف یہ کتاب کس طرح منسوب کی جاسکتی ہے۔یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ اس وقت تک تو رات اور انجیل کا کوئی ترجمہ عربی زبان میں نہیں ہوا تھا۔چنانچہ تاریخوں سے ثابت ہے کہ بعض صحابہ کو عبرانی اس لئے پڑھوائی گئی کہ وہ تو رات و انجیل پڑھ سکیں۔دوسرا ثبوت اس کا یہ ہے کہ مفسرین دنیا بھر کے علوم کا ذکر تفسیروں میں کرتے ہیں مگر جب بائبل کا حوالہ دیتے ہیں تو بالعموم غلط دیتے ہیں۔جس کی وجہ یہی تھی کہ عربی میں بائیل نہ تھی۔وہ سن سنا کر لکھتے اس لئے غلط ہوتا۔تیسرا ثبوت یہ ہے کہ بخاری میں ورقہ بن نوفل کے متعلق لکھا ہے کہ كَانَ يَكْتُبُ الكتب بالعبراني وہ عبرانی میں تو رات لکھا کرتے تھے۔گویا اس وقت تو ریت اور انجیل عربی میں پی تھی۔