آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 216
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 216 باب چهارم بند کر کے بیٹھتے تھے تا کہ کفار شرارت نہ کریں اس لئے کفار کے نز دیک اس قسم کا اجتماع بالکل عجیب بات تھی۔وہ خیال کرتے تھے کہ وہاں قرآن بنایا جاتا ہے۔اور چونکہ انبیاء سابق کے بعض واقعات کی طرف قرآن کریم میں اشارہ تھا وہ یہ خیال کرتے کہ مسیحی اور یہودی غلام یہ باتیں ان لوگوں کو بتاتے ہیں اور دوسرے صحابہ سے رسول کریم نے لکھوا لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کا جواب دیتا ہے کہ:۔ووَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا إفك اقتربهُ وَأَعَاتَهُ عَلَيْهِ قَوْمُ أَخَرُونَ فَقَدْ جَاء وَظُلْمًا وزوران (الفرقان:۵) یعنی منکر لوگ کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ بنا لیا گیا ہے اور کچھ لوگ اس میں مدددیتے ہیں۔جیگران بنالیا اور کا یہ اعتراض بالبداہت ظلم اور جھوٹ پر مینی ہے۔کیونکہ کیا مسیحی غلام ایسا کر سکتے ہیں کہ خود اپنے دین پر ہنسی کرائیں۔آخر انہیں اس کی کیا ضرورت ہے اور کیا فائدہ ہے کہ وہ اسی بات پر رات دن ماریں کھائیں اور گرم ریت پر گھسیٹے جائیں اور ایک بے فائدہ فریب میں شامل ہوں۔پس ایسے مخلص لوگوں پر یہ اعتراض کر کے ان لوگوں نے ظلم اور جھوٹ سے کام لیا ہے۔یہ ناممکن ہے کہ ایسے لوگ ایسا جھوٹ بنا سکیں۔دوسرا جواب یہ دیا ہے کہ جن کو تم پرانے قصے سمجھتے ہو وہ قصے نہیں بلکہ آئندہ کے متعلق خبریں اور پیشگوئیاں ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے۔قُل اَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ الشر في السمواتِ والأرض (الفرقان: 9) تو کہہ سے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو آسمانوں اور زمین کے رازوں سے واقف ہے۔کوئی انسان ایسا کلام نہیں بنا سکتا۔یہ تو غیب کی باتیں ہیں اور غیب خدا ہی جانتا ہے۔اب ان جوابوں کو دیکھو کہ کس قدرصحیح اور مضبوط ہیں۔اور وہیری کا خیال کس قدر بے معنی ہے۔اگر یہاں بھی وہی اعتراض سورۃ فخل والا ہوتا تو اس کا وہی جواب کیوں نہ دیا جاتا جو وہاں دیا گیا ہے۔آخر کیا وجہ تھی کہ اگر یہی سوال سورۃ نحل میں تھا تو اس کا جواب بقول وہیری کے بیہودہ دیا جاتا۔ایک شخص جو صحیح جواب جانتا ہے اور وہ جواب دے بھی چکا ہے اسے وہ جواب چھوڑ کر اور جواب دینے کی کیا ضرورت تھی۔پس یہ جواب لغو نہیں بلکہ معترضین کی اپنی سمجھ ناقص ہے۔