آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 215 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 215

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 215 باب چهارم صحابی کو چھپا دیا گیا اور بہن اور بہنوئی سامنے ہوئے۔انہوں نے پوچھا کس طرح آئے ہو؟ عمر نے کہا بتا ؤ تم کیا کر رہے تھے۔میں نے سنا ہے تم بھی صافی ہو گئے ہو۔انہوں نے کہا یہ غلط ہے ہم تو صابی نہیں ہوئے عمر نے کہا میں نے خود تمہاری آواز سنی ہے تم کچھ پڑھ رہے تھے اور بہنوئی پر حملہ کر دیا۔یہ دیکھ کر بہن آگئے آگئی اور ضرب اس کے سر پر پڑی جس سے اس کا سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔اس پر انہوں نے بڑے جوش سے کہا ہم مسلمان ہو گئے ہیں۔اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے ہیں تم جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر لو۔جب حضرت عمر نے یہ حالت دیکھی تو چونکہ وہ ایک بہادر انسان تھے اور ان کا وارا ایک عورت پر پڑا جو ان کی بہن تھی۔اس سے انہیں سخت شرمندگی محسوس ہوئی اور انہوں نے کہا تم جو کچھ پڑھ ر ہے تھے وہ مجھے بھی دکھاؤ۔اس نے کہا تم مشرک اور نا پاک ہو پہلے جا کر نہاؤ پھر بتائیں گے۔چنانچہ وہ نہائے اور رہا سہا غصہ بھی دور ہو گیا۔اس کے بعد قرآن کی جو آیات پڑھ رہے تھے وہ انہیں سنائی گئیں۔حضرت عمر کا دل ان کو سن کر پگھل گیا اور وہ بے اختیار کہ اٹھے اشهَدُ أن لا إله إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ الله۔اس وقت وہ صحابی جن کو انہوں نے چھپایا ہوا تھا وہ بھی باہر آگئے۔حضرت عمر نے کہا بتاؤ تمہارا سردار کہاں ہے میں اس کے پاس جانا چاہتا ہوں۔انہیں بتایا گیا کہ فلاں گھر میں مسلمان جمع ہوتے ہیں۔حضرت عمر وہاں گئے۔وہاں رسول کریم ﷺ اور بعض صحابہ موجود تھے اور دروازہ بند تھا۔جب حضرت عمر نے دستک دی تو صحابہ نے پوچھا کون ہے؟ حضرت عمر نے اپنا نام بتایا تو صحابہ نے ڈرتے ہوئے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا عمر آیا ہے۔دروازہ کے سوراخ سے انہوں نے دیکھا کہ تلوار ان کے گلے میں لٹکی ہوئی ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا دروازہ کھول دو۔جب عمر اندر داخل ہوئے تو رسول کریم ﷺ نے ان کا کرتا پکڑ کر کہا عمر عکس نیت سے آئے ہو۔انہوں نے کہا اسلام قبول کرنے کے لئے۔آپ نے فرمایا اللہ اکبر۔یہین کر باقی صحابہ نے بھی زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ے کی عادت تھی کہ صحابہ کو دین سکھانے کے لئے الگ مکان میں بلا لیتے۔چونکہ آپ دروازہ -