آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 214 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 214

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 214 باب چهارم نے اس کا نام نہیں لیا مگر یہ کہا ہے کہ لِسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَيٌّ (النحل :۱۰۴) کہ وہ جس کی طرف قرآن کو منسوب کرتے ہیں وہ مجھی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالف کسی خاص شخص کا نام لیتے تھے۔پھر یہ بھی ہوا لگتا ہے کہ وہ شخص معروف تھا اور مسلمان بھی اس شخص کا نام جانتے تھے۔سورۃ فرقان کی آیت اس سے مختلف ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ کفار کسی خاص آدمی کا نام لئے بغیر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایک جماعت رسول کریم میے کو سکھاتی ہے اور رات دن آپ کے پاس رہتی ہے اور آپ بعض دوسرے لوگوں سے اس جماعت کے بتائے ہوئے واقعات کو لکھوا لیتے ہیں۔یہ فرق نمایاں ہے۔ایک میں ایک خاص شخص کا ذکر ہے اور دوسری میں غیر معین جماعت کا ذکر ہے۔ایک میں صرف سیکھنے کا ذکر ہے اور دوسری میں بعض لوگوں سے لکھوانے کا بھی ذکر ہے۔ایک میں محض تعلیم کا ذکر ہے اور دوسری میں پہلوں کے واقعات اور خیالات سے نقل کرنے کا ذکر ہے اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ دونوں جگہ جواب الگ الگ دیا گیا ہے۔یہ فرق اتنے نمایاں ہیں کہ ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جب رسول کریم ﷺ نے دعوی کیا تو شروع میں ہی بعض غلام آپ پر ایمان لے آئے تھے۔وہ پہلے بت پرست یا عیسائی یا یہودی تھے۔انہیں جب صبح و شام فرصت ملتی رسول کریم ﷺ کے گھر پہنچ جاتے اور دوسرے صحابہ کے ساتھ دین سیکھتے اور نمازیں پڑھتے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے واقعہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک مکان پر یا اجتماع ہوتا تھا۔حضرت الله عمر رضی اللہ عنہ ابھی ایمان نہ لائے تھے کہ ایک دن اپنے گھر سے رسول کریم ﷺ پر حملہ کرنے کے ارادہ سے نکلے کسی نے پوچھا کہ کیا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا محمد جو صابی ہو گیا ہے اس کی خبر لینے جا رہا ہوں۔اس نے کہا پہلے اپنے گھر کی خبر تو لو انہوں نے کہا کیا ہو گیا ہے ؟ اس نے بتایا کہ تمہاری بہن اور بہنوئی دونوں مسلمان ہو گئے ہیں۔یہ سن کر وہ اپنی بہن کے گھر گئے اور جا کر دستک دی۔اس وقت ایک صحابی ان کو قرآن پڑھا رہے تھے۔جب انہیں معلوم ہوا کہ عمرہ ہیں تو الله