آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 213 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 213

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 213 باب چہارم اپنے مذہب کے خلاف خود دلائل بتایا کرتے تھے۔دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں یا تو عیسائی راہب اپنے مذہب کو ماننے والا ہوگایا نہ ماننے والا۔اگر ماننے والا تھا تو اسے چاہئے تھا کہ اپنے مذہب کی تائید کرتا نہ کہ اس کے خلاف باتیں بتاتا۔اور اگر نہ ماننے والا تھا اور سمجھتا تھا کہ جو باتیں اس کے ذہن میں آئی ہیں وہ اعلیٰ درجہ کی ہیں تو اس نے ان کو خود اپنی طرف منسوب کر کے کیوں نہ پیش کیا۔اسے چاہئے تھا کہ اپنے نام پر کتاب لکھتا نہ کہ لکھ کر دوسرے کو دے دیتا۔اب میں ان آیتوں اور ان میں مذکور جوابات کو لیتا ہوں۔سورہ نحل کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کا اعتراض یہ تھا کہ اسے کوئی اور آدمی سکھاتا ہے۔اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا ہے کہ وہ شخص تو عجمی ہے اور قرآن کی زبان عربی ہے۔وہیری کہتا ہے کہ یہ جواب بالکل بودا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا کالا ہے۔مضمون وہ بجھی بنا کر دیتا تھا آگے عربی میں وہ خود ڈھال لیتے تھے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قرآن کے دوسرے جواب بھی ایسے ہی بو دے ہوتے ہیں؟ اگر قرآن کی دوسری باتیں ارفع اور اعلیٰ ہیں تو ہمیں سوچنا چاہئے کہ یہ جواب بھی ضرور اعلیٰ ہو گا اور جو مطلب ہم سمجھتے ہیں وہ غلط ہوگا۔دوسرے اگر یہ جواب ہے جوڑ تھا تو کیوں ہوگا مکہ والوں نے اسے رد نہ کر دیا اور کیوں وہیری والا جواب انہوں نے نہ دیا۔ان کا تو اپنا اعتراض تھا اور وہ اپنے اعتراض کو وہیری وغیرہ سے بہتر سمجھتے تھے۔وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ تو بے معنی جواب ہے۔مگر کسی ضعیف سے ضعیف روایت میں بھی یہ نہیں آتا کہ مکہ والوں نے کہا ہو یہ جواب ہے جوڑ ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا جو اعتراض تھا اس کا جواب انہیں صحیح اور مسکت مل گیا تھا اسی لئے وہ خاموش ہو گئے۔بے اب رہا یہ امر کہ اچھا سوال و جواب کا مطلب کیا تھا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اصل میں کفار کا سوال ایک نہ تھا بلکہ دو تھے۔اور ان سوالوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی قرآنی جواب کو بے جوڑ قرار دے دیا گیا ہے۔ان میں سے ایک کا ذکر سورہ نحل میں ہے اور دوسرے کا سورۃ فرقان میں سورہ قتل کا وہ سوال نہیں جو سورہ فرقان کا ہے اور سورۃ فرقان میں وہ نہیں جو سورۃ پھل میں ہے۔چنانچہ سورہ پھل میں میں یہ اعتراض نقل ہے کہ ایک مجھی شخص آپ کو سکھاتا ہے۔قرآن کریم