آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 212 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 212

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 212 باب چهارم اس امر پر ہے کہ انسان گناہ گار ہے۔لیکن اسلام شروع ہی اس بات سے ہوتا ہے کہ انسان نیک ہے اور اس کی فطرت میں خدا سے محبت رکھی گئی ہے نہ کہ گناہ۔دوسرا جواب یہ دیا کہ اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ خدا جو تیرا رب ہے اس کی یہ شان ہے کہ دوسری چیزوں میں جو صفات پائی جاتی ہیں ان سب سے اعلیٰ صفات اس میں جلوہ گر ہیں عیسائیت کہتی ہے کہ خدا میں رحم کی صفت نہیں۔وہ گناہ گار کو نہیں بخش سکتا مگر اسلام کہتا ہے جب انسان اپنے قصور وار کو بخش سکتا ہے اور انسان میں عفو کی صفت ہے تو خدا کیوں نہیں بخش سکتا مگر اسلام کہتا ہے جب انسان اپنے قصور وار کو بخش سکتا ہے اور اس میں کیوں یہ صفت نہیں۔اس میں تو بدرجہ اتم یہ صفت موجود ہے۔کیونکہ وہ اکرم ہے یعنی تمام صفات حسنہ میں سب سے -сбоч تیسرا ر ڈ یہ کیا کہ فرمایا عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَالَمْ يَعْلم عیسائیت کی تیسری بنیاد یہ ہے کہ شریعت لعنت ہے۔لیکن قرآن نے بتایا ہے کہ شریعت وہ باتیں ہیں جو انسان عقل سے دریافت نہیں کر سکتا۔انسان اپنی کوشش سے شرعی احکام نہیں بنا سکتے اس لئے شریعت آتی ہے۔چوتھی رد عیسائیت پر یہ کی کہ فرمایا کلا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَىٰ أَنْ رَّاهُ اسْتَغْنى انسان بڑا ہی سرکش ہے جو یہ کہتا ہے کہ مجھے خدا کی شریعت کی ضرورت نہیں۔میں خود اپنی رو راہنمائی کے سامان مہیا کرلوں گا۔یہ کہنے والے بہت نا معقول لوگ ہیں۔پانچواں رو یہ کیا کہ فرمایا - كلا لا تطعُهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِب ایسے لوگوں کی باتیں کبھی نہ سنا اور اللہ کی خوب عبادت اور فرماں برداری کرنا۔رسول کریم ﷺ کو فرمایا کہ کسی راہب کی بات نہ سننا جو شریعت کو لعنت قرار دیتا ہے بلکہ خدا کی فرمانبرداری میں لگا رہ۔کویا نجات اور قرب الہی کا ذریعہ بجائے کسی کفارہ پر ایمان لانے کے سجدہ یعنی فرمانبرداری یا بالفاظ دیگر اسلام کو قرار دیا ہے۔پس قرآن کی تو پہلی سورۃ نے ہی مسیحیت کو رڈ کیا ہے اور با دلیل رد کیا ہے۔اسی طرح سورۃ فاتحہ میں عیسائیت اور یہو دیت کو رد کیا گیا ہے۔پھر کیا کوئی شخص مان سکتا ہے کہ عیسائی اور یہودی