آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 210
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 210 باب چہارم لیتے ہوں (وہ اپنے اس خیال کی تائید میں آرملڈ کو بھی پیش کرتا ہے ) اس کے بعد وہ لکھتا ہے : ہے "It is because of this that we do not hesitate to reterate the old charge of deliberate imposture۔" یعنی ہم یہ پرانا التزام وہراتے ہوئے اپنے دل میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے کہ محمد (ﷺ) نے جان بوجھ کر جھوٹ بنایا۔اوپر کے مضمون سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کفار مکہ اس اعتراض کو خاص اہمیت دیتے تھے۔اور ان کے وارث مسیحیوں نے اس اہمیت کو اب تک قائم رکھا ہے۔میں پہلے مسیحیوں کے اعتراضات کو لیتا ہوں۔اور اس شخص کو جواب میں پیش کرتا ہوں جسے عیسائی خدا کا بیٹا کہتے ہیں۔حضرت مسیح پر یہ اعتراض ہوا تھا۔کہ ان کے ساتھ شیطان کا تعلق ہے اور دیوؤں کو اس کی مدد سے نکالتے ہیں۔چنانچہ لکھا ہے: " پھر وہ کونگی بدروح کو نکال رہا تھا اور جب وہ بد روح اتر گئی تو ایسا ہوا کہ کونگا بولا اور لوگوں نے تعجب کیا۔لیکن ان میں سے بعض نے کہا یہ تو بدروحوں کے سردار بعل زبول کی مدد سے بد روحوں کو نکالتا ہے۔بعض اور لوگ آزمائش کے لئے اس سے ایک آسمانی نشان طلب کرنے لگے مگر اس نے ان کے خیالوں کو جان کر ان سے کہا کہ جس کسی بادشاہت میں پھوٹ پڑے وہ ویران ہو جاتی ہے اور جس گھر میں پھوٹ پڑے وہ برباد ہو جاتا ہے۔اور اگر شیطان بھی اپنا مخالف ہو جائے تو اس کی بادشاہت کس طرح قائم رہے گی۔کیونکہ تم میری بابت کہتے ہو کہ یہ بدروحوں کو بعل زبول کی مدد سے نکالتا ہے۔“ یہاں حضرت مسیح نے ایک قانون پیش کیا ہے جب ان کے متعلق کہا گیا کہ وہ شیطان کو شیطان کی مدد سے نکالتے ہیں تو انہوں نے کہا شیطان شیطان کو کیوں نکالے گا۔اس قانون کے ماتحت غور کر لو کہ کیا قرآن کسی یہودی یا عیسائی کا بنایا ہوا نظر آتا ہے۔اگر کسی عیسائی کا بنایا ہوا