آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 209 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 209

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 209 باب چہارم غلام تھے۔بیہقی اور آدم بن ابی ایاس نے عبد اللہ بن مسلم الحضر می سے روایت لکھی ہے کہ ہمارے دو غلام لیسا راور جبر نامی تھے۔دونوں نصرانی تھے اور عین التجر کے رہنے والے تھے۔دونوں لوہار تھے اور تلوار میں بنایا کرتے تھے اور کام کرتے ہوئے انجیل پڑھا کرتے تھے۔رسول کریم کے وہاں سے گزرتے تو ان کے پاس ٹھہر جاتے۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ ان میں سے ایک غلام سے لوگوں نے پوچھا کہ انكَ تُعَلَّمُ مُحَمَّداً فَقَالَ لَا هُوَ يُعَلِّمُنِي۔کیا تم محمد ( ﷺ ) کو سکھاتے ہو ؟ اسے نے کہا میں نہیں سکھاتا بلکہ وہ مجھے سکھاتا ہے۔ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک انجھی رومی غلام مکہ میں تھا۔اس کا نام بل عام تھا۔رسول کریم نے اسے اسلام سکھایا کرتے تھے۔اس پر قریش کہنے لگے کہ یہ محمد (ﷺ) کو سکھاتا ہے۔محم میجی مؤرخ لکھتے ہیں کہ غالباً آپ نے بحیرہ راہب سے سیکھا تھا۔چونکہ مسیحی تاریخوں میں بحیرہ کا کہیں پتہ نہیں ملتا اس وجہ سے وہ ابتداء تو اس کے وجود سے ہی منکر تھے لیکن اب مسعودی کی ایک روایت کی وجہ سے وہ اس کو تسلیم کرنے لگے ہیں۔اور اس اعتراض کے رنگ میں اس سے فائدہ اٹھانے لگے ہیں۔وہ روایت یہ ہے کہ بحیرہ کو مسیحی لوگ سرگیس (SURGUIS ) کہا کرتے تھے اور SURGUIS نامی ایک پادری کا پتہ مسیحی کتب میں مل جاتا ہے۔پس اب وہ کہتے ہیں کہ اس شخص سے سیکھ کر رسول کریم ﷺ نے نعوذ باللہ قرآن بنالیا۔سیل (SALE) اس خیال کو رد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بحیرہ کا مکہ جانا ثابت نہیں۔اور یہ خیال کہ آپ نے جوانی میں دھومی سے بہت پہلے بحیرہ سے قرآن سیکھا ہو عقل کے خلاف ہے۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اس سے مسیحیت کا کچھ علم سیکھا ہو۔و ہیری ان روایتوں سے خوش ہو کر کہتا ہے کہ خواہ ناموں میں اختلاف ہی ہو لیکن یہ روایت اتنی کثرت سے آتی ہے کہ اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ محمد (ﷺ) کے پاس بعض مسیحی اور یہو دی آتے تھے اور یہ کہ انہوں نے ان کی گفتگو سے خاص طور پر فائدہ اٹھایا اور جواب کی کمزوری بتاتی ہے کہ کچھ دال میں کالا کالا ضرور ہے ورنہ یہ کیا جواب ہوا کہ اس کی زبان انجمی ہے۔ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں بنا دیتا ہو۔اور محمد (ﷺ ) اسے عربی میں ڈھال