آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 208 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 208

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 208 باب چهارم اكتَتَبَهَا فَهِيَ تُمَلى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلان قُلْ انْزَلَهُ الَّذِي يحلم البر يَعْلَمُ في السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورً ا ر حِيْمان (الفرقان : ۵ تا ۷ ) یعنی یہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن خدا کا کلام نہیں ہے بلکہ صرف ایک جھوٹ ہے جو اس نے بنا لیا ہے اور اس بنانے میں کچھ اور بھی لوگ اس کی مدد کرتے ہیں۔یہ بات کہنے میں انہوں نے بڑا ظلم کیا ہے اور بڑا افترا باندھا ہے۔وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكتبها اور وہ کہتے ہیں کہ اس میں پرانے قصے ہیں جو لکھوا لیتا ہے۔یعنی دو جماعتیں ہیں ایک مضمون بناتی ہے اور ایک لکھ لکھ کر دیتی ہے۔فَهيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيْلاً پھر اس کی مجلس میں اسے خوب پڑھتے ہیں تا کہ یاد ہو جائے قل أنزلة اللى يعلمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كيم دعا سے خدا نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کے رازوں کو جاننے والا ہے۔إِنَّهُ كَانَ غَفُوراً رَّحِيماً وہ بڑا بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اس اعتراض میں آج کل عیسائی بھی شامل ہو گئے ہیں اور بڑے بڑے مصنف مزے لے لے کر اسے بیان کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں محمد (ﷺ) کو کیا پتہ تھا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں میں کیا لکھا ہے۔وہ عیسائی اور یہودی تھے جو باتیں بنا کر ان کو دیتے تھے۔چونکہ اب بھی یہ اعتراض کیا جاتا ہے اور اسے بہت اہمیت دی جاتی ہے اس لئے میں کسی قدر تفصیل سے اس کا جواب بیان کرتا ہوں۔مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ جو کہا گیا ہے کہ اسے بشر سکھاتا ہے۔اس بشر سے مرا د جبر رومی غلام تھا۔جو عامر بن حضرمی کا غلام تھا۔اس نے تو رات اور انجیل پڑھی ہوئی تھی۔جب رسول کریم ے کو لوگ تکلیف دینے لگے تو آپ اس کے پاس جا کر بیٹھا کرتے تھے۔اس پر لوگوں نے یہ اعتراض کیا۔دوسری روایتوں میں آتا ہے کہ فر اور زجاج کہتے ہیں کہ حور لطب ابن عبد العزی کا ایک غلام عائش یا عیش نامی پہلی کتب پڑھا کرتا تھا بعد میں پختہ مسلمان ہو گیا اور رسول کریم کی مجلس میں آتا تھا۔اس کی نسبت لوگ یہ الزام لگاتے تھے۔مقاتل اور ابن جبیر کا قول ہے کہ ابو فیکیہہ پر لوگ شبہ کرتے تھے ان کا نام یسار تھا۔مذہبا یہودی تھے اور مکہ کی ایک عورت کے