آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 207
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 207 باب چهارم پر نازل ہوا نہ آپ نے بنایا بلکہ کوئی اور شخص ان کو سکھا دیتا ہے۔مکہ والے کہتے تھے کہ ملکہ کا ہو کرمحمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) کس طرح اپنی قوم کے بتوں کی مذمت کر سکتا ہے اور ان کے مقابلہ میں دوسری قوم کے نبیوں کی تعریف کر سکتا ہے۔اسے کوئی اور اس قسم کی باتیں سکھا جاتا ہے۔جب وہ حضرت موسی کی تعریف قرآن میں سنتے تو کہتے کہ کوئی یہو دی سکھا گیا ہے اور جب حضرت عیسی کی تعریف سنتے تو کہتے کوئی عیسائی بتا گیا ہے۔اس میں ان کو اس بات سے بھی تائید مل جاتی کہ قرآن کریم میں پہلے انبیاء کے واقعات بھی بیان ہوئے ہیں۔اس جگہ مجنون حقیقی معنوں میں نہیں آیا بلکہ غصہ کا کلام ہے کیونکہ معلم اور مجنون سیکھا نہیں ہو سکتے۔مطلب یہ کہ پاگل ہے۔اتنا نہیں سمجھتا کہ لوگ اسے اپنے مذہب اور قوم کے خلاف باتیں سکھاتے ہیں۔قرآن کریم میں دو جگہ بھی یہ ذکر آیا ہے۔سور محل رکوع ۱۴ میں ہے: قُل نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدْسِ مِنْ رَبَّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبَّتَ الَّذِينَ أَمَنُوْا وَ هُدًى قَ بشرى للمسيمينَ وَلَقَد نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ لِسَانُ يُلجدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَيٌّ وَهَذَا لِسَانُ عَرَى مين (الحل ۱۰۲/۱۰۳) فرمایا اے محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) تو مخالفوں سے کہہ دے کہ قرآن کو روح القدس نے اتارا ہے۔تیرے رب کی طرف سے ساری سچائیاں اس میں موجود ہیں اور اس لئے انا را ہے کہ مومنوں کے دل مضبوط ہوں اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور بشارت ہو۔اور ہم جانتے ہیں کہ پر لوگ کہتے ہیں کہ کسی اور نے قرآن سکھایا ہے مگر جس کی طرف وہ یہ بات منسوب کرتے ہیں وہ عجمی ہے (مجھی وہ ہوتا ہے جو عرب نہ ہو یا عرب تو ہو مگر اپنے مافی الضمیر کو اچھی طرح عربی میں بیان نہ کر سکے ) اور یہ جو کلام ہے یہ تو زبان عربی میں ہے اور وہ بھی معمولی نہیں بلکہ خوب کھول کھول کر بیان کرنے والی۔دوسری جگہ فرماتا ہے: T وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِن هذا إلا إفك احتريه وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْم اخْرُوْنَ فَقَدْ جَاءَ وَظُهُمَا وَزُورَاثُ وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ