آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 206
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 206 باب چهارم (۴) روایات سے ثابت ہے کہ آنحضرت مسلم چوتھے یا پانچویں سال بعد دعوی کے اس غلام کے پاس کھڑے ہوا کرتے تھے۔کیونکہ روایات میں آتا ہے کہ جب آنحضرت صلعم کا بائیکاٹ ہوا ہے اس وقت اس کے پاس کھڑے ہوا کرتے تھے۔لیکن قرآن کریم کی بعض سورتیں اس واقعہ سے پہلے اتر چکی تھیں اور ان میں عیسائیوں کا ذکر موجود تھا جیسے سورۃ طہ ،سورۃ فرقان، کہف ، مریم وغیرہ۔چنانچہ حضرت ابن مسعودؓ جو بالکل ابتدائی زمانہ میں اسلام لانے والے ہیں فرماتے ہیں کہ سورۃ بنی اسرائیل، کہف سورة طه سورة مريم سورۃ انبیاء إِن هُنَّ العَناقِ الأَوَّلِ وَهُنَّ مِنْ تَلاوى (بخاری کتاب الغير ) یہ قرآن کی ابتدائی سورتوں میں سے ہیں اور میر اپرانا مال ہیں۔یعنی میں نے ابتدائے اسلام میں یہ سورتیں یاد کی تھیں۔ان سورتوں میں کثرت سے یہودیوں اور عیسائیوں کے واقعات آتے ہیں۔“ ☆ ( تفسیر کبیر جلد ۴ صفح ۲۳ ۲۴ تا ۲ ۳۵) آپ پر یہ اعتراض کیا گیا کہ آپ معلم ہیں یعنی کوئی اور آپ ﷺ کو باتیں سکھاتا ہے جو آپ بیان کرتے ہیں۔اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں۔اعتراض یہ کیا گیا کہ یہ معلم ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: الى لَهُمُ الذِكرى وَقَدْ جَاءَ هُمْ رَسُول مبينن تم تولوا عنه ووَقَالُوا معلم مجنونن (الدخان (۱۵۰۱۴) وَلُوْاعَتْهُ فرمایا ان نا معقولوں کو کہاں سے نصیحت حاصل ہو گئی حالانکہ ان کے پاس اعلیٰ درجہ کے معارف بیان کرنے والا رسول آیا مگر یہ لوگ اس سے منہ پھیر کر چلے گئے اور کہہ دیا کہ اسے کوئی سکھا جاتا ہے اور مجنون ہے۔مطلب یہ کہ یہ ایسا نادان ہے کہ لوگ اس کو اس کے باپ دادا کے الیانا کو دین کے خلاف باتیں بتا جاتے ہیں اور یہ آگے ان کو بیان کر دیتا ہے۔بعض لوگ رسول کریم میں اللہ پر اعتراض کرتے تھے اور اب تک کرتے ہیں کہ قرآن نہ آپ