آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 205
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 205 باب چهارم آخر میں ایک بار یک اشارہ کو بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ جس اعتراض کا ذکر کیا گیا ہے وہ جبر کے متعلق تھا اور وہ اشارہ یہ ہے کہ اس اعتراض کی تفصیلات کے بعد جو سب سے پہلی آیت ہے اس میں مرتدوں کا ذکر ہے اور جبر کی زندگی کے ایک اہم واقعہ کا تعلق بھی ایک مرید سے ہے۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ جبر دل سے مسلمان ہو گئے تھے مگر ظاہر نہ کرتے تھے۔رسول کریم صلعم جب مدینہ تشریف لے گئے تو ایک شخص کو کاتب وحی مقرر کیا جس کا نام عبد اللہ بن ابی سرح تھا۔یہ وہاں قرآن کریم ہی کے متعلق ایک شبہ میں پڑ کر مرید ہو گیا اور جب مکہ میں آیا تو لوگوں کو جبر کے مسلمان ہونے کی اطلاع دے دی۔جس کی وجہ سے سالہا سال تک ان کو سخت تکالیف دی گئیں۔پس اس اعتراض کے معابعد آیت ارتدا در کھ کر ایک بار یک اشارہ اس طرف کیا گیا ہے کہ اس مہم غلام پر ایک زمانہ میں ایک مرتد کی طرف سے بھی ظلم ٹوٹنے والا ہے۔مذکورہ بالا اعتراضات کے بارہ میں میں بعض اور امور بھی بیان کر دیتا ہوں تا حسب ضرورت کام آئیں: (1) قرآن کریم نے کسی ایک فرقہ کو نہیں لیا بلکہ سب سے اختلاف کیا ہے۔وہ کس فرقہ کا آدمی تھا جو اس کام میں آپ کی مدد کرتا تھا ؟ کیا وہ خود اپنے مذہب کے خلاف تعلیم بھی آپ کو سکھاتا تھا؟ (۲) قرآن کریم نے بائبل کے غلاط واقعات کی اصلاح کی ہے۔یہ اصلاح کسی غلام کی مدد سے آپ کر سکتے تھے۔جیسے مثلاً ہارون کا شرک نہ کرنا اور داؤ5 وسلیمانی و نوح کی پاکیزگی ثابت کرنا یہ ایسے واقعات ہیں کہ آج تیرہ سو سال کے بعد یورچین سیکی مصنف ان کے بارہ میں قرآن کریم کی تائید پر مجبور ہورہے ہیں۔(۳) آپ نے بائبل کے واقعات کے متعلق بعض نئی باتیں بیان کی ہیں جن کا اس وقت کسی یہودی اور عیسائی فرقہ کو بھی علم نہ تھا لیکن وہ آج کچی ثابت ہورہی ہیں۔جیسے فرعون کی لاش کا محفوظ رہنا اور آخریل جاتا۔