آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 204 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 204

باب چہارم 204 انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات "ARABIC VERSIONS: THESE COME PARTLY DIRECTLY FROM GREEK PARTLY THROUGH SYRIAC AND PARTLY THROUGH CAPTIC۔MUHAMMAD HIMSELF KNEW THE GOSPEL STORY ONLY ORALLY۔THE OLDEST MENUSCRIPT GOES NO FURTHER BACK THAN 8TH CENTURY TWO VERSIONS OF THE ARABIC ARE REPORTED TO HAVE TAKEN PLACE AT ALAXANDRIA IN THE 13TH CENTURY۔' TIME TEXT & CANNON OF THE NEW TESTAMENT۔(BY DR۔ALEXANDER SOUTER MALLD۔PAGE:74 2nd Edition 1925) انجیل کے عربی تراجم کے عنوان کے نیچے لکھتے ہیں : ان تراجم کے کچھ ٹکڑے تو براہ راست یونانی سے ہوئے۔کچھ ٹکڑے سریانی زبان سے ترجمہ ہوئے اور کچھ قبیلی زبان سے۔محمد (صلعم) بھی انا جیل کے متعلق صرف زبانی معلومات رکھتے تھے۔پرانے سے پرانا ترجمہ عربی کا آٹھویں صدی سے اوپر نہیں جاتا۔(رسول کریم مسلم چھٹی صدی میں پیدا ہوئے تھے )۔" پھر لکھتے ہیں کہ بیان کیا جاتا ہے وہ ترجمے عربی کے تیرھویں صدی میں اسکندریہ کے مقام پر کئے گئے تھے۔ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل کا عربی ترجمہ اس وقت تک نہ ہوا تھا اور جن لوگوں نے انجیل پڑھنی ہوتی تھی وہ عبرانی یا یونانی میں پڑھا کرتے تھے۔پس یہ سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا کہ جبر عربی زبان میں تو رات اور انجیل پڑھتا تھا اور آپ اس سے سیکھتے لیتے تھے۔وہ عبرانی یونانی زبان کے الفاظ جو اس نے رٹے ہوئے ہوں گے پڑھا کرتا ہو گا۔پس آپ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے تھے کہ اس کے بولے ہوئے لفظوں کو یاد کر لیں۔مگر اس سے آپ کو کیا فائدہ ہو سکتا تھا ؟