آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 203 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 203

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 203 باب چہارم صدی میں شروع ہوا اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے مفسرین جنہوں نے تفسیر میں مدد لینے کے لئے ہر قسم کے علوم پڑھ ڈالے تھے۔جب تو رات اور انجیل کے حوالے دینے بیٹھتے ہیں تو بالکل بےثبوت کہانیاں ان کی طرف منسوب کر دیتے ہیں جن کا نام ونشان بھی بائبل میں نہیں ہے۔ما ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو عربی کی انجیل میسر نہ تھی۔اگر عربی میں تو رات اور انجیل ہوتی تو کیا یونان کا فلسفہ اور حکمت پڑھنے والے ان کتب کو نہ پڑھتے ؟ (۲) اسلامی روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اناجیل یونانی یا عبرانی زبان میں ہی تھیں۔بخاری باب بدء الوحی میں ورقہ بن نوفل کے متعلق لکھا ہے: قَدْ تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعِبْرَانِي فَيَكْتُبُ مِنَ الْإِنْجِيلِ بِالعِبْرَانِيَّةِ مَا شَاءَ الله أن يكتب يعنى ورق عبرانی زبان میں انجیل لکھا کرتے تھے۔بعض روایات میں بجائے عبرانی کے عربی کا لفظ بھی ہے مگر ہم اس روایت کو ترجیح دینے پر مجبور ہیں کیونکہ اگر عربی میں تورات وانجیل ہوتی تو بہت سے لوگ اس کے پڑھنے والے نکلتے۔بلکہ میرے نزدیک تو یہ بھی ممکن ہے کہ عبرانی بھی راوی کی غلطی سے لکھا گیا ہو۔کیونکہ اس وقت یونانی انا جیل ہی مروج تھیں اور عبرانی انجیل قریباً مفقود ہو چکی تھی۔(۳) تیسرا ثبوت اس امر کا تو رات کا ترجمہ عربی میں نہ ہوا تھا یہ ہے کہ یہودی جن کے بعض قبائل مدینہ میں آکر بس گئے تھے ان کے پاس بھی تو رات کا عربی ترجمہ نہ تھا۔چنانچہ اگر کبھی آنحضرت ﷺ کو کسی حوالہ کی ضرورت ہوتی تو عبد اللہ بن سلام سے آپ کو مدد لینی پڑتی تھی جو عبرانی جانتے تھے۔احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر نے عبرانی پڑھنی شروع کی تھی تا کہ وہ تو رات و انجیل کو پڑھ سکیں۔مشلوة المصابیح کتاب الایمان باب الاعتصام بالکتاب والسنة ) (۴) چوتھے ثبوت کے طور پر میں ایک مسیحی مضمون نویس کی شہادت پیش کرتا ہوں۔ڈاکٹر الیگزنڈ رسوٹر ایم۔اے۔ایل ایل۔ڈی اپنی کتاب ٹائم ٹیکسٹ اینڈ کمین آف دی نیو ٹیسٹیسٹ کے صفحہ ہے (ایڈیشن ثانی مطبوعہ ۱۹۲۵ء ) پر لکھتے ہیں :