آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 202 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 202

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 202 باب چهارم میں فرماتا ہے کہ اسے عربی بولنی اس قدر نہیں آتی کہ کوئی علمی مضمون بیان کر سکے۔یہ اتنی ہی مد دکر سکتا ہے کہ انجیل کی عبارتیں عبرانی یا یونانی زبانوں میں آپ کو یا دکرا دے۔لیکن اگر ایسا ہوتا تو قرآن کا ایک حصہ عبرانی یا یونانی ہوتا۔مگر قرآن تو سارا عربی میں ہے۔پھر جبکہ تر جمانی وہ غلام کر نہیں سکتا اور عبرانی یونانی کی عبارتیں قرآن میں موجود نہیں تو سکھالیا کس نے اور سیکھا کس نے ؟ اس سے زیر دست جواب اور کیا ہو سکتا ہے اور اسے بودا کہنے والے کو سوائے متعصب یا موٹی عقل والے کے اور کیا کہہ سکتے ہیں۔یہ بھی یادر ہے کہ روایت میں دو غلاموں کا ذکر آتا ہے لیکن میں نے ایک غلام کا ذکر کیا ہے۔اس کی دو جہیں ہیں۔ایک یہ کہ قرآن کریم کی آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک غلام کے متعلق اعتراض کیا کرتے تھے۔دوسرے ایک روایت جس میں ذکر ہے کہ اس شخص سے لوگوں نے پوچھا کہ کیا تو محمد ( صلحم ) کو سکھاتا ہے؟ تو اس نے کہا کہ نہیں۔اس میں بھی ایک ہی آدمی کا ذکر ہے۔پس خواہ دو غلام ہی اس جگہ اکٹھے کام کرتے ہوں پر شبہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی کے متعلق کیا جاتا تھا۔اس جگہ ایک اور سوال بھی غور طلب ہے جو اس اعتراض کے متعلق ہماری صحیح راہنمائی کر سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا اس وقت تو رات اور انجیل کے عربی تراجم ہو چکے تھے اور وہ اس قدر رائج تھے کہ غلام بھی ان کو کام کے وقت پڑھا کرتے تھے ؟ کیونکہ اگر یہ صورت نہ ہوتو عبرانی اور یونانی کتب کی عبارتوں سے نہ رسول اللہ اللہ کوئی فائدہ اٹھا سکتے تھے اور نہ غلام خود ہی فائدہ اٹھا سکتے تھے۔کیونکہ عبداللہ بن سلام کے سوا کسی ایک مسلمان کے متعلق بھی تاریخ سے ثابت نہیں کہ وہ عبرانی جانتا تھا اور یونانی سے واقف کا تو تاریخ میں میرے علم میں کوئی ذکر ہی نہیں آتا۔جہاں تک میری تحقیق ہے اس وقت تک عربی زبان میں تو رات اور انجیل کے تراجم نہیں ہوئے تھے۔اور جب ان کتب کے تراجم نہیں ہوئے تو ظالمو دوغیرہ جو یہود کی روایتوں کی کتب ہیں ان کے تراجم کس نے کرنے تھے۔میرے اس خیال کی تائید مندرجہ ذیل دلائل سے ہوتی ہے۔(1) اس وقت تک انجیل کے تراجم کا رواج ہی نہ تھا۔تراجم کا رواج تیر ہوئیں ، چودہویں