آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 201
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 201 باب چہارم طرح قتل کیا گیا کہ خاوند کی دونوں لاتوں کو دوانٹوں سے باندھ کر دوطرف چلا دیا اور اس کی بیوی کی شرمگاہ میں نیزہ مار کر اس کے سامنے قتل کیا۔اور ان کے لڑکے کو بھی سخت ایذا ئیں دیں۔اس دوران میں انہیں بار بار کہا جاتا تھا کہ محمد رسول اللہ کا انکار کر دیں تو چھوڑ دئے جائیں گے مگر میاں بیوی مرتے مر گئے پر صداقت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔یہ آزا دوں کا سر دار نام نہا د غلام یاسر بھی انہی غلاموں میں سے تھا جن کے متعلق یہ اتہام لگایا جانا تھا کہ وہ محمد رسول اللہ کو سکھاتے ہیں۔کیا کوئی انسان مان سکتا ہے کہ کہ خود ہی قرآن بنا کر دینے والے محمد رسول اللہ کے نام پر ایسے ایسے عذاب اٹھا کر جانیں قربان کر رہے تھے۔ملہ کے کافر تو وقتی جوش میں اندھے ہو رہے تھے۔کیا آج کل کی عیسائی دنیا میں بھی کوئی دیکھنے والی آنکھ نہیں؟ کوئی بولنے والی زبان نہیں جو اس بار بار دہرائے جانے والے ظالمانہ اور جھوٹے اعتراض کے خلاف آواز اٹھائے ؟ اعتراض کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کیا وہ کلام ان غلاموں کا سکھایا ہوا ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ دیا کہ جنہیں تم قصے کہتے ہو وہ قصے ہیں ہی نہیں بلکہ پیشگوئیاں ہیں۔ان کا اتارنے والا تو آسمانوں اور زمین کے غیبوں کا جاننے والا خدا ہے۔یعنی ان میں آئندہ کے حالات بیان کئے گئے ہیں نہ پرانے واقعات اور انسان آئندہ کے حالات نہیں جان سکتا اور نہ بتا سکتا ہے۔اب دیکھو تو یہ جواب کیسا واضح اور بیج ہے۔غرض سورۃ نحل میں یہ اعتراض نہیں کہ دوسرا کوئی شخص اسے مضمون سکھاتا ہے۔وہ اعتراض فرقان میں بیان ہوا ہے اور اس کا ایسا دندان شکن جواب دیا گیا ہے کہ شریف آدمی اسے سن کر پھر اس اعتراض کو نہیں دہرا سکتا۔اور سورۃ محل میں وہ اعتراض نہیں بلکہ یہ اعتراض بیان ہوا ہے کہ فلاں غلام قرآن سکھاتا ہے حالانکہ وہ غلام عربی نہیں جانتا تھا۔صرف کچھ آیات انجیل کی جو غالباً یونانی زبان میں ہوں گی کام کرتے وقت پڑھا کرتا تھا محمد رسول اللہ اس کے جوش کو دیکھ کر تبلیغ کے لئے اس کے پاس ٹھہر جاتے تھے کہ کوئی بات اس کے کان میں پڑ جائے تو شاید کسی وقت ہدایت کا موجب بنے تبھی اس نے خود اقرار کیا ہے کہ یہ مجھے سکھاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ جواب