آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 200 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 200

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 200 باب چهارم جاذکر کیا۔وہ بہت شرمندہ ہوئے اور کہا کہ میں نے تو سمجھا تھا کہ میں نے اپنی ہوشیاری سے راز معلوم کر لیا ہے۔ایسی ہی ہوشیاری مکہ والوں نے دکھائی تھی۔کام والے لوگوں کو صبح و شام ہی فرصت مل سکتی تھی۔وہ صبح اور شام کی نماز میں ادا کرنے کے لئے قرآن پڑھنے کے لئے دارا ر قم میں جمع ہو جاتے تھے۔کفار کے بعض زیادہ عقلمند لوگ خیال کرتے تھے کہ ہم نے راز معلوم کر لیا ہے۔یہ قرآن کی تصنیف کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ھند کے لئے اس میں بھی ایک نشان ہے کیونکہ اس میں بھی یہ اعتراف پایا جاتا ہے کہ قرآن کو کوئی ایک شخص نہیں بنا سکتا۔تبھی انہوں نے اس کے بنانے میں مدد دینے والی ایک جماعت قرار دی۔جن میں سے بعض عقلی باتیں جمع کرتے تھے اور بعض پرانی کتب کی تعلیم جمع کرتے تھے۔اب میں سورۃ فرقان میں اس اعتراض کے جو جواب دئے گئے ہیں بیان کرتا ہوں۔کفار کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے اس کے دو پہلو ؤں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے:۔(۱) اول یہ کہ جن کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ قرآن کریم کے بنانے میں مدد دیتے ہیں۔کیا وہ ایسا کر سکتے تھے؟ (۲) دوسرے یہ کہ جس چیز کی نسبت کہا جاتا ہے کہ بعض غلاموں نے لکھائی ہے۔کیا وہ انسانوں کی لکھائی ہوئی ہو سکتی ہے؟ پہلے سوال کا جواب قرآن کریم یہ دیتا ہے کہ یہ سوال نہایت ظالمانہ اور جھوٹا ہے۔اس جواب میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جن غلاموں کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ آ آکر رسول کریم کو قرآن سکھایا کرتے تھے ان کے متعلق دیکھنا چاہئے کہ وہ اسلام کی خاطر کیا کیا تکالیف اٹھا رہے تھے۔یہ کیونکر ممکن ہو سکتا تھا کہ ایسے لوگ جو خود قرآن بنا بنا کر محمد رسول اللہ کو دیتے تھے۔اس جھوٹے کلام کی خاطر رات اور دن تکلیفیں اٹھا رہے تھے۔اسلام کی خاطر ان غلاموں میں سے بعض نے جانیں دیں۔بعض کی آنکھیں نکالی گئیں۔ایک میاں بیوی کو اس