آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 199 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 199

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 199 باب چهارم مگر یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ جس پر الزام لگایا جاتا ہے وہ معین شخص ہے۔لیکن سورۃ فرقان میں وہ جماعت غیر معتین رکھی گئی ہے۔اسی طرح سورۃ نحل میں سکھانے کے کام کا وقت نہیں بتایا گیا لیکن سورہ فرقان میں یہ بھی بتایا گیا کہ صبح و شام یہ تعلیم کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔سورۃ فرقان کی آیات کے الفا ظ صاف بتاتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے صحابہ چونکہ صبح و شام نماز کے لئے اور قرآن سیکھنے کے لئے دارارقم میں جمع ہوتے تھے۔وہ نادان یہ خیال کرتے تھے کہ شاید اس جگہ جمع ہو کر بعض مسیحی غلام اپنی کتب کی باتیں ان کو بتاتے ہیں یا ان سے لکھ کر صحابہ لے آتے ہیں اور پھر وہ صبح و شام حفظ کی جاتی ہیں۔ان جاہلوں کی عقل میں صبح و شام کی نمازیں تو آہی نہیں سکتی تھیں۔وہ اس اجتماع کو منصو بہ بازی کا وقت سمجھتے تھے۔خود مجھے اس بارہ میں ایک تجربہ ہو چکا ہے جس سے اس قسم کی بدگمانی کی حقیقت خوب معلوم ہو جاتی ہے۔کوئی بیس سال کا عرصہ ہوا میں لاہور گیا۔مجھ سے آریوں کے مشہور لیڈ ر لالہ رام بھجدت جواب فوت ہو چکے ہیں ملنے کے لئے آئے۔ان کے ساتھ کچھ اور صاحبان بھی تھے جن میں "شیر پنجاب " جو سکھوں کا مشہور اخبار ہے اس کے ایڈیٹر صاحب بھی شامل تھے۔اتفاق سے اس دن میرا الیکھر تھا۔وہ لیکچر سننے کے لئے ٹھہر گئے۔مجھے سارا دن کام کی وجہ سے حوالے نکالنے کا موقع نہیں ملا تھا۔اس لئے میں نے حافظ روشن علی صاحب مرحوم کو (اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے ) جو آیات کو نکالنے کا خاص ملکہ رکھتے تھے، پیج پر بٹھالیا اور کہا کہ میں آپ کو مضمون بتاتا جایا کروں گا آپ مجھے آیت کے الفاظ بتاتے جایا کریں۔خیر میں نے لیکچر شروع کیا جہاں کسی آیت سے استدلال کی ضرورت ہوتی میں آہستہ سے ایک دو لفظ آیت کے پڑھ دیتایا مضمون بتا دیتا اور وہ ساری آیت پڑھ دیتے۔میں اسے پڑھ کر جو استدلال پیش کرنا ہوتا تھا اسے بیان کر دیتا۔دوسرے دن شیر پنجاب میں ایک مضمون نکلا کہ کل ہم بھی امام جماعت احمد یہ قادیان کے لیکچر میں تھے لیکچر اچھا تھا مگر ہم نے ذرا تجسس کیا اور سٹیج کے پچھلی طرف گئے تو معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنے پیچھے ایک عالم کو چھپایا ہوا تھا۔وہ مضمون بتا نا جاتا تھا اور مرزا صاحب دہراتے جاتے تھے۔واقف کار لوگوں میں کئی دن اس پر جنسی اُڑتی رہی اور سردار صاحب سے بھی کسی نے