آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 198 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 198

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 198 باب چهارم تمام شہادت اندرونی ہو یا بیرونی ہمیں اس امر کے مانے پر مجبور کرتی ہے کہ یہ (نحل ) آخری مکی سورتوں میں سے ہے“ (تفسیر القرآن جلد ۳ صفحه ۲۴ و صفحه ۲۵ ) اب کیا کوئی عقلمند تسلیم کر سکتا ہے کہ جس اعتراض کو سورۃ فرقان میں نہایت زیر دست دلائل کے ساتھ رڈ کیا ہے اس کے چھ سال کے بعد اس سوال کا جواب سور پھل میں نہایت بودا اور کمزور دے دیا ہے۔اگر فرقان بعد کی ہوتی تو کوئی شبہ بھی کر سکتا تھا کہ اس وقت جواب نہیں سوجھا بعد میں جواب بنا لیا۔مگر فرقان خود مسیحی مصنفوں کے نزدیک پہلے کی ہے اور نحل بعد کی۔اب میں مضمون کو سیکجا بیان کرنے کے لئے پہلے وہ دلائل بیان کرتا ہوں جو سورۃ میں بیان کئے گئے ہیں۔سورۂ فرقان میں آتا ہے: وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا إِفْلَك افْتَرَيَهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْم اخْرَوْنَ فَقَدْ جَاءَ وَظُلْمًا وَزُورَاة وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلان قُلْ أَنْزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ التر في السمواتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورً ا ز حِيْمان (الفرقان : ۵ تا ۷ ) یعنی کفار کہتے ہیں کہ قرآن ایک جھوٹی کتاب ہے اور محمد رسول اللہ کو اس کے بنانے میں دوسرے لوگ مدد دیتے ہیں۔ان کفار نے یہ اعتراض کر کے سخت ظلم کیا ہے اور جھوٹ بولا ہے اور مدددیتے وہ اس اعتراض کو پکا کرنے کے لئے یوں دلیل دیتے ہیں کہ قرآن میں ہے کیا۔بس پرانے لوگوں کی باتیں نقل کر دی گئی ہیں محمد ( مسلم ) وہ باتیں لکھوا لیتے ہیں اور صبح و شام ان کے سامنے وہ پڑھی جاتی ہیں ( تا کہ یا در ہیں ) تو ان سے کہہ کہ قرآن کو تو اس نے اتارا ہے جو آسمان اور زمین کے رازوں کو جانتا ہے۔وہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔اس آیت میں صاف لفظوں میں اس اعتراض کو نقل کیا گیا ہے جو ویری صاحب سور پنچل کی آیت سے نکالنا چاہتے ہیں اور اس اعتراض کو پڑھ کر یہ بھی صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ سورۃ پھل والی آیت کا اعتراض اس اعتراض سے مختلف ہے کیونکہ سورۃ نحل میں ایک شخص کی طرف سکھانا منسوب کیا گیا ہے اور یہاں کئی شخصوں کی طرف۔پھر سورہ نحل والی آیت میں کو نام نہیں لیا گیا ++