آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 197
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 197 باب چهارم وہ کسی بڑے عالم کی تحقیق ہے جس نے اہل کتاب کی لائبریریاں چھان کر ان باتوں کو نکالا ہے اور موجودہ مذاہب کی غلطیوں کو ظاہر کر دیا ہے۔اس سے تو ان مذا ہب کا کچھ بھی نہیں رہتا اور یہودی اور مسیحی زیادہ سے زیادہ یہ کہہ کر اپنے کل کو تسلی دے سکتے ہیں کہ یہو دیت وہ نہیں جو موجودہ تو رات اور کتب یہود میں موجود ہے بلکہ وہ ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہے۔اور نصرانیت وہ نہیں جو موجودہ انا جیل میں ہے بلکہ وہ ہے جو قرآن میں ہے اور اگر وہ ایسا کہیں گے تو دوسرے لفظوں میں قرآن کریم کی تصدیق کریں گے۔اب ایک پہلو آیت کے ترجمہ کا رہ گیا ہے جو قابل توجہ ہے اور وہ یہ کہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ آیت کا ترجمہ کہ جس کی نسبت لوگ گمان کرتے ہیں اس کی زبان غیر عربی ہے اس کے کو ایک معنے یہ بھی ہو سکیں کہ اس کو عربی یا آتی ہی نہیں یا اتنی نہیں آتی کہ وہ اپنا مطلب بیان کر سکے لیکن اس کے یہ معنے بھی تو ہو سکتے ہیں کہ اس کی مادری زبان غیر عربی ہے اور ایسا شخص جس کی مادری زبان غیر عربی ہو بعد میں عربی سیکھ بھی تو سکتا ہے۔پس جواب مکمل نہ ہوا۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معنے اس آیت کے نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ سوال قرآن کریم نے دوسری جگہ خود بیان کیا ہے اور اس کا الگ جواب دیا ہے۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ معنے آیت زیر بحث میں نہیں ہیں۔نیز اس سے یہ امر بھی ثابت ہوتا ہے کہ پادری و حیرتی کا یہ استنباط کہ سورہ نحل کا جواب بالکل بودا ہے اور اس سے اعتراض کی سچائی ثابت ہوتی ہے۔ان کی نا واقفیت کی وجہ سے ہے کیونکہ جب قرآن کریم نے وہی سوال جو دھیری صاحب اور دوسرے سیحی مصنفوں نے اس آیت سے نکالا ہے سورۃ فرقان میں خود بیان کیا ہے اور اس کا جواب نہایت زیر دست دیا ہے۔تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ سورۃ نحل میں اس سوال کا نہایت بودا جواب دیا جاتا۔سورة فرقان خود و میر کی صاحب کے نزدیک ابتدائی مکی سورتوں میں سے ہے وہ لکھتے ہیں کہ : م اس سورۃ کی آیتیں محمد (صلعم) کی ابتدائی منگی وحی میں سے ہیں تغیر قرآن جلد ۳ صفہ ۳۰۷) اور سور پنحل کی نسبت وہ لکھتے ہیں کہ: