آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 196
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات سچائی کا دعوی کرتے تھے، کس قد رغلط ہے۔196 باب چہارم خود یہ آیت بھی تو جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں یہی بات پیش کر رہی ہے کہ قرآن کریم کی بہتر میں کسی نقل کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے مین ہونے کی وجہ سے ہےا ور مہین ہونے کے لئے وسیع اور مخفی علوم کی ضرورت ہے جن کی اس آدمی سے جس کی طرف یہ کام منسوب کیا جاتا ہے تو کیا امید کی جاسکتی ہے بڑے سے بڑا عقلمند انسان بھی اس کتاب کے بنانے میں مدد نہیں دے سکتا۔جس میں سب سچائیاں بادلیل بیان کی گئی ہوں اور سب اعتراضوں کا رو موجود ہو۔ایسی کتاب تو صرف خدا تعالیٰ ہی اتار سکتا ہے۔ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ وہ غلام جاہل تھے۔ہم تو سمجھتے ہیں کہ کوئی بڑا عالم۔رسول کریم (ﷺ) کے قبضہ میں آ گیا تھا۔جن مسیحیوں نے اس آیت کا مشار الیہ سرگیس کو قرار دیا ہے، اسی حکمت سے قرار دیا ہے کیونکہ وہ زیادہ عقلمند تھے۔اور انہوں نے اس امر کو محسوس کر لیا تھا کہ قرآن کریم میں یہودو نصاری اور اسلام کے درمیان اختلافی امور کی جو بحث ہے وہ غلام تو الگ رہا۔اچھے لکھے پڑھے عیسائی کی دسترس سے بھی باہر ہے۔اس لئے انہوں نے ایک فرضی سرگیس کو تجویز کیا کہ وہ ایک قسطوری راہب تھا اور آپ کو سکھایا کرتا تھا۔تاریخی طور پر تو خود مسیحی مصنفوں نے ہی ان کی بات کو رد کر دیا ہے مگر میں عقلی طور پر بھی اس کا ایک جواب بیان کر دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اگر نصاری اس الزام کو یہ شکل دیں تو پھر بھی انہی کے مذہب پر زد پڑتی ہے کیونکہ اس کے یہ معنے ہوں گے کہ یہو دونصاری کی جو تصویر اسلام نے پیش کی ہے خواہ انسانوں سے سیکھ کر کی ہے مگر ہے وہی مسیحی۔اور اگر وہ تصویر بچی ہے تو ان کے مذاہب کے لحاظ ہونے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے۔اس پہلو کے بدلنے سے صرف ان کو یہ تسلی ہو گئی کہ ہمارے مذاہب تو جھوٹے ثابت ہو ہی گئے ہیں، ہم نے قرآن پر بھی اعتراض کر دیا کہ اسے بھی انسانوں نے بنایا ہے۔لیکن یادر ہے کہ شبہ یقین کا قائم مقام نہیں ہو سکتا۔قرآن کریم کی طرف جو بات وہ منسوب کر رہے ہیں اسے تو خود ان کے اپنے آدمی نا قابل قبول قرار دیتے قر ہیں۔لیکن یہ تسلیم کر کے کہ قرآن کریم نے یہودیوں اور مسیحیوں سے جہاں جہاں اختلاف کیا ہے