آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 195
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 195 باب چہارم اعتراض کو دور کرتا ہے۔اس کا جواب ایک تو یہ ہے کہ قرآن کریم میں کہیں وہ دعوی بیان نہیں جو سیحی قرآن کی طرف منسوب کرتے ہیں۔قرآن کریم اپنی سچائی کی یہ دلیل نہیں دیتا کہ چونکہ اس میں اہل کتاب کی کتب کی باتیں بیان ہوئی ہیں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔بلکہ قرآن تو یہ دعوی کرتا ہے کہ اس میں وہ صداقتیں موجود ہیں جو اہل کتاب کی کتب میں نہیں ہیں۔اس لئے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔چنانچہ اسی سورۃ النحل میں یہ آیات گزر چکی ہیں کہ : قبر تاللهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَنُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ اليَومَ وَلَهُمْ عَذَابٌ لِي وَمَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (الحل: ۶۵،۶۳) یعنی ہمیں اپنی ہی ذات کی قسم ہے کہ تجھ سے پہلے ہر قوم میں نبی گزرچکے ہیں اور ہر قوم کے پاس ہدایت نامہ آچکا ہے۔مگر با جود اس کے شیطان نے ان قوموں کو گمراہ کر دیا اور اب وہ مختلف باتیں اپنے مذہب کی طرف منسوب کر رہے ہیں جو خدا تعالی کی طرف سے نازل نہ ہوئی تھیں اور وہ اللہ تعالی کو چھوڑ کر شیطان کے تصرف میں آئے ہوئے ہیں اور دردناک عذاب کا مورد بننے کے خطرہ میں ہیں۔پس ان کے ان اختلافات کے مٹانے کے لئے ہم نے تجھ پر یہ کتاب اتاری ہے تا کہ اس کے ذریعہ سے وہ سچائیاں جو ان سے مخفی ہو چکی ہیں اور وہ ان کے متعلق اختلاف کر رہے ہیں بیان کرے۔اور اس قرآن کے ذریعہ سے ہم نے مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت کے سامان پیدا کئے ہیں۔اس آیت میں پہلے سب قوموں میں نبی آنے کا ذکر ہے اور بعد میں قرآن کریم کے نزول کا اور یہ نہیں فرمایا کہ چونکہ یہ پہلے نبیوں کی کتب کی باتیں بیان کرتا ہے اس لئے سچا ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ پہلی کتب کو لوگوں نے چھوڑ دیا اور شیطان کے پیچھے چل پڑے اور ان میں قسم قسم کے اختلاف پیدا ہو گئے۔یہ قرآن ان اختلافوں کو مٹانے اور جو صداقت مخفی ہوگئی تھی اسے ظاہر کرنے کے لئے آیا ہے۔قرآن کریم کے اس دعوے کی موجودگی میں یہ کہنا کہ محمد رسول اللہ محض چھلی کتب کی باتیں بیان کر کے جن کو وہ چند غلاموں سے سن لیتے تھے اپنی