آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 194
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 194 باب چهارم۔تب بھی جواب درست ہے کیونکہ جواب میں قرآن کریم کو پیش کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ قرآن کی زبان اس قدر وسیع مطالب پر مشتمل ہے کہ وہ مین کہلانے کی مستحق ہے۔یعنی وہ ہر اعتراض کا خود ہی جواب دیتی جاتی ہے۔پھر یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ ایک شخص جو اپنا مطلب بھی پوری طرح واضح نہیں کر سکتا یعنی موٹی عقل والا اور گند ذہن ہے وہ ایسے مطالب محمد رسول اللہ کو بتائے کہ ہر دعویٰ کے ساتھ اس کی دلیل بھی موجود ہو اور ہر مشکل جو قرآن پڑھتے ہوئے انسانی ذہن پیدا کرے اس کا حل بھی ساتھ ہی موجود ہو۔جو شخص کسی علمی بات کے بیان کرنے کے قابل نہیں اور موٹی عقل کا آدمی ہے اور اپنے مطلب کو واضح نہیں کر سکتا وہ اس قسم کی باتیں سمجھا ہی کس طرح سکتا ہے۔یہ دلیل بھی ایسی کامل اور مسکت ہے کہ اس کے معقول اور لاجواب ہونے میں کوئی شبہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔ممکن ہے کوئی اعتراض کرے کہ ہو سکتا تھا کہ وہ غلام اپنے بھدے پیرایہ میں اناجیل کے واقعات سنا دیتا ہو اور رسول کریم ﷺ اسے اپنے الفاظ میں بیان کر دیتے ہوں۔اس کا جواب یہ ہے کہ کہ مبین کا لفظ اس سوال کا جواب بھی دے رہا ہے۔کیونکہ بتانے والا اگر نا مکمل سچائیاں بتا نا تھاوہ کونسی صورت تھی کہ محمد رسول اللہ اُن کو مبین صداقتوں یعنی ان صداقتوں میں جو اپنی سچائی کی آپ ہی دلیل ہوں تبدیل کر سکتے تھے۔کیا کوئی شخص یہ طاقت رکھتا ہے کہ جھوٹ یا غلط بات کو صرف مدلل ہی نہیں بلکہ ایسا دل بنا دے کہ مضمون روز روشن کی طرح کھل جائے۔بعض مسیحی اعتراض کو یہ رنگ دیتے ہیں کہ قرآن کا یہ ڈھوٹی ہے کہ اس میں چونکہ یہودو نصاری کی کتب کی باتیں ہیں اور محمد رسول اللہ بوجدائی ہونے کے خودان باتوں سے واقف نہیں ہو سکتے تھے اس لئے ثابت ہوا کہ یہ باتیں انہوں نے خدا تعالیٰ سے معلوم کر کے دنیا کو بتائی ہیں۔اس دھومی کے خلاف یہ اعتراض ہے کہ وہ بعض مسیحی غلاموں سے غلط اور بے جوڑ روایات سن کر قرآن میں داخل کر لیتے تھے اور اس صورت میں یہ ضروری نہیں کہ جس شخص سے وہ ان قصوں کو سنیں وہ ضرور بڑے دماغ کا اور بڑی سمجھے کا آدمی ہو بلکہ واقعات چونکہ غلط بیان ہوئے ہیں اس لئے جاہل اور اکھٹر غلام کی نسبت ایسا الزام واقعات کے زیادہ مطابق بیٹھتا ہے نہ کہ