آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 193
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 198 باب چہارم نسبت کفار کو شبہ ہوتا تھا کہ شاید یہ باتیں سکھاتا ہے وہ جبر ہی ہے جو بہت دیر بعد مسلمان ہوا ہے اور رسول کریم ﷺ کی مجالس میں نہیں آتا تھا بلکہ جیسا کہ روایات سے ثابت ہے آپ بعض دفعہ اس کے پاس جبکہ وہ تلواریں بناتے ہوئے انجیل کی آیات پڑھا کرتا تھا کھڑے ہو جاتے تھے۔پس اس آیت میں جس شخص کی طرف اشارہ ہے وہ یہی شخص ہے اور جیسا کہ حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص اپنے مذہبی جوش کی وجہ سے لوہا کوٹتے ہوئے انجیل پڑھتا جاتا تھا اور بوجہ غیر زبان ہونے کے عجوبہ خیال کرتے ہوئے لوگ اس کے گرد جمع ہو جاتے تھے۔رسول اللہ ہے بھی اس کے جوش سے متاثر ہوتے اور آپ بھی بعض دفعہ اس کے پاس کھڑے ہو جاتے اور یہ خیال کر کے کہ جس شخص میں مذہب کا اس قدر جوش ہے وہ ضرور سنجیدگی سے دینی مسائل پر غور کرے گا۔اسے اسلام کی تلقین کرتے۔بعض لوگ جنہوں نے اس کے پاس رسول کریم میں کو کھڑے دیکھا انہوں نے یہ مشہور کر دیا کہ وہ آپ کو سکھاتا ہے۔چنانچہ اوپر جو احادیث نقل ہوئی ہیں ان میں یہ بھی آتا ہے کہ اس سے یا اس کا جو ایک اور ساتھی تھا اس سے بعض لوگوں نے سوال کیا کہ کیا تم محمد (ﷺ) کو اپنے دین کی باتیں سکھاتے ہو ؟ تو اس نے کہا کہ نہیں وہ مجھے سکھاتے ہیں۔(روح المعانی جلد ۱۴) اس سوال و جواب سے ظاہر ہے کہ لوگ اس کی نسبت گمان کرتے تھے کہ وہ رسول کریم کو سکھاتا ہے۔اس الزام کا جواب قرآن کریم نے یہ دیا ہے کہ اس کی زبان تو اعجمی ہے یعنی وہ عربی زبان نہیں جانتا یا ایسی تھوڑی جانتا ہے جسے زبان جانتا نہیں کہہ سکتے۔اور قرآن کی زبان و عربي مين ہے پھر بتاؤ کہ ان دونوں کے درمیان تبادلۂ خیال کس طرح ہو سکتا ہے۔آخر وْعَرَب مذہب کی تعلیمات سکھانے کے لئے زبان ہی ذریعہ ہے۔اگر دونوں شخصوں کی زبان ایک نہیں۔ایک کی زبان غیر عربی ہے اور دوسرے کی عربی تو عربی دان غیر عربی دان سے کس ذریعہ سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔یہ جواب نہایت معقول ہے اور اس جواب کو کوئی غیر معقول نہیں کہ سکتا۔دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہو سکتے تھے کہ اس کی زبان جس کی نسبت اتہام لگایا جاتا ہے کہ وہ سکھاتا ہے کو عربی ہومگر وہ اپنا مفہوم ادا کرنے کی قابلیت نہیں رکھتا۔اگر یہ معنے کئے جائیں