آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 5
آنحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 6 کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں۔اس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولی سید الانبیاء سید الا حیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔عالی مرتبہ کا نبی + آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۶۰-۱۶۱) آنحضور کی بلند شان اور علو مرتبت کا اظہاران خوبصورت الفاظ میں فرماتے ہیں: " میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے (ہزار ہزار درود اور سلام اُس پر ) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اُس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ تو حید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اُس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اُس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اُس کی زندگی میں اُس کو دیں"۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۱۸ ۱۱۹) تمام مرسلوں کا سرتاج اپنی کتاب سراج منیر میں آنحضور کی فضیلت ان الفاظ میں تحریر فرماتے ہیں: " ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی تصرف ایک مرد کو جانتے ہیں یعنی وہی نبیوں کا سردار رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفی و احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس