آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 192 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 192

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 192 باب چهارم قرآن بنانے میں مدد دینے کا الزام لگایا گیا ہے وہ الجھی ہے بلکہ یوں فرمایا ہے کہ جس شخص کی نسبت یہ لوگ ایسا گمان کر رہے ہیں اس کی زبان انجمی ہے۔یعنی (۱) غیر عرب لوگوں کی زبان ہے۔سیا (۲) یہ کہ اس کی زبان ایسی ناقص ہے کہ وہ اپنا مطلب بیان ہی نہیں کر سکتا۔انجھی کے ایک معنے لکنت کے بھی ہیں وہ معنے بولی کی نسبت استعمال نہیں ہو سکتے کیونکہ لکنت چھڑے کی زبان میں ہوتی ہے۔الفاظ سے مرکب بولی میں لکنت نہیں ہوا کرتی۔پس جب امجھی کا لفظ زبان کی نسبت بولا جائے تو اس کے دو معنے ہوتے ہیں۔غیر عرب زبان یعنی جسے انجم لوگ بولتے ہیں یا پھر اس حد تک غیر فصیح زبان جو مطلب واضح نہ کر سکتی ہو خواہ اس کا بولنے والا عرب ہی کیوں نہ ہو اور خواہ وہ عربی میں ہی کیوں بات نہ کر رہا ہو۔انجمی زبان کے معنوں کی تعیین کرنے کے بعد اب میں یہ بتاتا ہوں کہ ان دونوں معنوں کو مد نظر رکھ کر اس آیت کے یہ دو معنے ہوتے ہیں۔(۱) یہ لوگ کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ کو قرآن کوئی دوسرا شخص سکھاتا ہے۔وہ شخص جس کی طرف یہ لوگ اس کام کو منسوب کرتے ہیں اس کی زبان تو غیر عربی ہے۔(۲) جس کی نسبت یہ لوگ اس کام کو منسوب کرتے ہیں وہ تو اپنے خیالات ادا کرنے پر قادر ہی نہیں اور قرآن کی زبان عربی ہے اور عربی بھی وہ کہ مضمون اس میں سے پھوٹ پڑتے ہیں۔ان دونوں جوابوں کو دیکھ لو کہ نہایت معقول اور مدلل اور مسکت ہیں۔جو عربی نہ جانتا ہو وہ بھی عرب کو کچھ سکھا نہیں سکتا اور جس کی دماغی حالت ایسی کمزور ہو کہ صیح طور پر بات نہ کر سکتا ہو وہ بھی کوئی علمی بات کسی کو نہیں بتا سکتا۔اب میں یہ بتا تا ہوں کہ کفار کس شخص کی طرف اشارہ کرتے تھے۔اس غلام کے مختلف نام آتے ہیں۔مگر ان مختلف ناموں میں سے اس جگہ کے مطابق وہی روایت ہے جس میں جبر کی نسبت سکھانے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔کیونکہ باقی غلام جن کے نام لئے گئے ہیں کھلے طور پر مسلمان تھے اور رسول کریم میں سے صبح و شام ملتے رہتے تھے۔ان میں کسی ایک کو اعتراضات کا نشانہ بنانے کی کوئی وجہ نہ تھی۔اگر اعتراض ہونا تو سب پر ہونا۔وہ شخص جوا کیلا تھا اور جن کی