آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 191
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 191 باب چهارم ویری اور آر جلد ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو کیوں مکہ والوں نے اس کو رد نہ کیا ؟ اگر ان کا وہی اعتراض تھا جو میسر زویری اور آرملڈ نے سمجھا ہے تو انہوں نے کیوں اس کے جواب میں یہ بات نہ کہی کہ ہمارا تو یہ اعتراض نہیں کہ آپ عربی اس یہودی یا عیسائی غلام سے بنواتے ہیں۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ مسالہ اس سے لیتے ہیں اور پھر اپنی زبان میں اس کے مضامین کو بیان کر دیتے ہیں۔کفار کی طرف سے یہ اعتراض کسی کمزور روایت میں بھی نہیں پایا جا تا۔یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ شاید مسلمانوں نے وہ اعتراض تاریخ میں نقل نہ کیا ہو۔کیونکہ جب بیسیوں روایتیں جن سے رسول کریم ﷺ یا اسلام پر ز دپڑتی ہے کتب احادیث میں درج ہیں تو اس ایک اعتراض کے نقل کرنے میں ان کے لئے کیا روک تھی ؟ پس صاف ظاہر ہے کہ کفار نے اس امر کو تسلیم کر لیا تھا کہ الله ان کے سوال کو ٹھیک طور پر سمجھ لیا گیا ہے اور جواب اس کے مطابق ہی دیا گیا ہے۔اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ مذکورہ سوال کا جواب جو قرآن کریم نے دیا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟ تو اس کا مطلب سمجھنے سے پہلے اعجمی کے معنے سمجھ لینے ضروری ہیں۔عربی زبان میں عرب اور معجم دولفظ عربوں اور غیر عربوں کے لئے مستعمل ہوتے ہیں۔اور اسی مادہ سے أعجم کا لفظ ہی جو غیر عرب کے لئے بولا جاتا ہے۔چنانچہ تاج العروس جلد ۸ میں ہے عرب کہتے ہیں: رَجُلٌ أَعْجَمُ و قَوْم أَعْجَم وہ شخص انجم ہے یا وہ قوم انجم ہے۔مطلب یہ کہ وہ آدمی یا قوم غیر عرب ہے عربوں میں سے نہیں ہے۔اس حد تک کے حوالہ سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ انجم غیر عرب کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے سوا انجم کے معنے مَنْ لا يُفصح کے بھی ہیں یعنی وہ شخص جو بات کھول کر نہ بیان کر سکے اسی طرح یہی معنے الجھی کے بھی ہیں (تاج)۔اور ان معنوں میں عرب کی نسبت بھی یہ لفظ بولا جا سکتا ہے۔اسی طرح انجم اس شخص کی نسبت بھی بولتے ہیں جس کی زبان میں لکنت ہو خواہ وہ فصیح الکلام ہی کیوں نہ ہو۔(تاج) ان معانی کو بیان کرنے کے بعد اب میں اس طرف توجہ پھیرنا چاہتا ہوں کہ اس جگہ انجمی کا لفظ انسان کی نسبت نہیں بولا گیا بلکہ زبان کی نسبت بولا گیا ہے۔یعنی یہ نہیں فرمایا کہ جس کی نسبت