آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 190
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 190 باب چہارم محمد صاحب کے ہمسائے غیر مذاہب کے لوگوں سے مدد حاصل کرنے کا الزام ان پر لگایا کرتے تھے اور اس اعتراض کا جواب قرآن نے دیا۔وہ محمد صاحب کی پوزیشن کی کمزوری کو ثابت کر رہا ہے۔چنانچہ آرملڈ صاحب بھی اس بارہ میں لکھتے ہیں کہ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ وہ غیر ملکی تھے ہم کہتے ہیں کہ وہ انہیں مسالا تو مہیا کر کے دے سکتے تھے۔آگے دیر تی کہتا ہے کہ یہی تو ہے جو وہ کیا کرتے تھے اور اسی وجہ سے کہ محمد صاحب اس مسالے کو لے کر اور اپنی نبوت کے مقصد کی تائید میں ڈھال کر خدا تعالیٰ ) کی طرف منسوب کر کے ان واقعات کو دہرا دیا کرتے تھے۔اور جبرائیل فرشتہ کی وحی اس کو بتاتے تھے ہم اس پرانے الزام کو دہرانے میں بچکچاتے نہیں کہ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولا کرتے تھے (نعوذ بالله من هذه الخرافات) مسلمان مفتروں اور عیسائی مؤرخوں اور پادریوں کے خیالات تحریر کرنے کے بعد اب میں اس آیت کا مفہوم بیان کرتا ہوں۔آیت زیر بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ اعتراض کیا کرتے تھے کہ رسول کریم کو قرآن کا مضمون کوئی انسان سکھاتا ہے۔اس اعتراض کا جواب اللہ تعالی یہ دیتا ہے کہ ان کی زبان تو اعجمی ہے اور یہ کلام تو عربی میں ہے۔مسیحی کہتے ہیں کہ یہ جواب غلط ہے کیونکہ معترض یہ نہیں کہتا کہ وہ غلام قرآن کا مضمون عربی زبان میں بنا کر آپ کو دے دیا کرتے تھے بلکہ یہ کہتا ہے کہ وہ یہودی کتب کے مضامین آپ کو بتاتے تھے اور آپ ان مضامین کو اپنی عبارت میں ڈھال لیا کرتے تھے۔میرے نز دیک کسی کے کلام کو سمجھنے سے پہلے اس کی عام حالت کا جائزہ لینا بھی ضروری ہوتا ہے۔اگر قرآن کے دوسرے جوابات جو وہ مخالفوں کے اعتر انسوں کے دیتا ہے ایسے ہی بیہودہ ہوتے ہیں جیسا کہ یہ جواب ہے جو پادری ویری اور آرملڈ صاحب نے قرآن کریم کی طرف منسوب کیا ہے تو بیشک ان کی یہ تنقید قابل اعتناء ہو سکتی ہے لیکن اگر اس کے بر خلاف قرآن اپنے مخالفوں کے اعتراضات کے مناسب اور مدلل جواب دیتا ہے۔تو پھر اس امر کے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ یا تو پادری صاحبان نے سوال نہیں سمجھایا جواب نہیں سمجھا۔دوسرا قابل غور امر اس بارہ میں یہ ہے کہ اگر یہ جواب ایسا ہی بے جوڑ تھا جیسا کہ میسرز