آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 189
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 189 باب چهارم ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک عجمی رومی غلام مکہ میں تھا، اس کا نام بل عام تھا، رسول اللہ اسے اسلام سکھایا کرتے تھے۔اس پر قریش کہنے لگے کہ یہ محمد کو سکھاتا ہے۔(روح المعانی جلد ۱۳) علاوہ ازیں علامہ سیوطی لکھتے ہیں کہ قیس ایک عیسائی غلام تھا۔اس کی ملاقات رسول اللہ سے تھی۔اس پر الزام لگائے گئے تھے کہ وہ محمد کو سکھاتا ہے۔۔ور منشور میں لکھا ہے کہ عدس ایک غلام تھا جو اوسہ بن ربیع کا غلام تھا اس کی نسبعت الزام لگایا جاتا تھا۔اور روح المعانی (جلد ۱۴) اور کشاف میں لکھا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کفار سلمان فاری کے متعلق الزام لگایا کرتے تھے۔ڈاکٹر سیل لکھتا ہے کہ ڈاکٹر پر یڈیا نے سوانح محمد میں لکھا ہے کہ عبد الله ( ابن ) سلام کے متعلق لوگ اعتراض کیا کرتے تھے جس کا نام یہودیوں میں عبدیا بن سلوم تھا۔لیکن خود بیل نے ہی اس کارڈ کیا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ پر یڈیا نے عبد اللہ بن سلام کے تھا۔متعلق غلطی کھائی ہے۔سلمان کا نام اس نے غلطی سے عبد اللہ بن سلام سمجھ لیا ہے۔( یعنی دراصل جس کا نام لیا جاتا تھا وہ سلمان تھے ) سیل کہتا ہے کہ عام خیال یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک فطوری پادری سے جس کا نام سرگیس تھا مد دلی تھی۔اور خیال کیا جاتا تھا کہ سرگیس بحیرہ راہب کا نام تھا۔جس سے محمد صاحب جبکہ آپ حضرت خدیجہ کی طرف سے تجارت کے لئے شام کو گئے تھے، ملے تھے۔اس کی سند میں مشہور مصنف الْمَسْعُودِی کو پیش کیا جاتا ہے۔جس نے لکھا ہے کہ بحیرہ راہب کا نام عیسائیوں کی کتاب میں سرگیس آتا ہے۔پادری ویری مختلف روایات بیان کر کے اپنی رائے کو یوں ظاہر کرتے ہیں کہ ناموں میں خواہ کتنا ہی اختلاف ہو لیکن یہ بات ہم کو یقینی طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ محمد(ﷺ ) صاحب کے پاس ایسے ذرائع موجود تھے کہ ہجرت سے پہلے یہودیوں اور عیسائیوں کی مدد حاصل کر سکتے تھے۔اور یہ بات کہ وہ اس مدد سے فائدہ حاصل کیا کرتے تھے اس کا نا قابل تردید ثبوت مگی زندگی کے آخری دور کی سورتوں میں جن میں یہودیوں اور مسیحیوں کی کتب کی کہانیاں بیان ہیں مہیا ہے۔پھر یہی صاحب آیت زیر بحث کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ