آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 188
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 188 باب چهارم بیان کرتا ہوں۔جیسا کہ آیت کے الفاظ سے ظاہر ہے اس میں کفار کا یہ اعتراض بیان کیا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ پر الہام نہیں ہوتا بلکہ ان کو ایک آدمی یہ باتیں سکھاتا ہے۔کوقرآن کریم نے اس شخص کا نام نہیں بتایا لیکن عبارت سے ظاہر ہے کہ کفار کا اعتراض اس موقع پر یہ نہ تھا کہ اسے کوئی نا معلوم شخص سکھاتا ہے بلکہ اس موقع پر ان کا اعتراض کسی خاص شخص کے متعلق تھا جس کا وہ اپنے پرو پیگنڈا میں نام بھی بتاتے تھے۔قرآن کریم نے کو اس کی شخصیت کا اظہار نہیں کیا مگر یہ بتایا ہے کہ جس شخص پر وہ اعتراض کرتے تھے وہ انجمی تھا۔اور اسی بنا پر ان کے اعتراض کورڈ کیا ہے اور توجہ دلاتی ہے کہ ایک عجمی کی مدد سے یہ کتاب جو عربی مبین زبان میں ہے کیونکر تیار ہو سکتی تھی۔مفسرین نے اس اعتراض کے متعلق مختلف واقعات بیان کئے ہیں۔ایک روایت یہ ہے کہ جو بطلب بن عبد العزب مٹی کا ایک غلام جس کا نام عائش یا یعیش تھا۔وہ پہلی کتب پڑھا کرتا تھا اورا سلام لے آیا تھا اور اسلام پر مضبوطی سے قائم رہا تھا۔مکہ کے لوگ اس کی نسبت الزام لگاتے تھے کہ وہ رسول کریم ﷺ کو سکھاتا ہے۔(روح المعانی جلد ۱۴) فراء اور زجاج کا یہی قول ہے اور مقاتل اور ابن جبیر کا قول ہے کہ مکہ کے لوگ ابو فکیہ پر الزام لگایا کرتے تھے کہ وہ محمد ( ﷺ ) کو سکھاتا ہے۔(روح المعانی) بعض نے کہا ہے کہ ابو کیہہ کا نام بیسار تھا اور وہ مکہ کی ایک عورت کا غلام تھا اور یہودی تھا۔بہتی اور آدم بن ابی باس نے عبد اللہ بن مسلم الحضر می سے روایت کی ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ ہمارے د نصرانی غلام تھے۔وہ عین التمر کے رہنے والے تھے۔ان میں سے ایک کا نام بسیار اور دوسرے کا نام جبر تھا۔دونوں مکہ میں تلوار میں بنایا کرتے تھے اور کام کرتے وقت انجیل بھی پڑھتے تھے۔رسول کریم بازار سے گزرتے ہوئے ان کو انجیل پڑھتے ہوئے دیکھ کر کچھ دیر کے لئے وہاں ٹھیر جاتے۔(فتح البیان جلده نیز روح المعانی جلد ۱۴) ایک روایت میں ہے کہ ان میں سے ایک سے لوگوں نے پوچھا کہ انكَ تُعَلَّمُ محمداً " کیا تم محمد کو سکھاتے ہو؟ فَقَالَ لا بَلْ هُوَ يُعَلِّمُنِی۔اس نے کہا نہیں بلکہ محمد مجھے سکھاتے ہیں۔(روح المعانی جلد ۱۴)