آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 187 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 187

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 187 باب چهارم اس کی شناخت کے سامان بعد میں پیدا کرنے چاہئیں؟ اگر خدا تعالیٰ ایسا کرتے اس کے معنے تو یہ ہوں گے کہ وہ خود دنیا کو ہدایت سے محروم کرنا چاہتا ہے۔یا پھر کیا ان لوگوں کی یہ خواہش ہے کہ نبیوں کی شناخت کے سامان تو پہلے سے مہیا کر دیئے جائیں اور پہلے نبیوں کی بعض پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے آثار بھی ظاہر کر دیے جائیں لیکن وہ نبی ان پیشگوئیوں سے فائدہ نہ اٹھائے ور نہ یہ سمجھا جائے گا کہ وہ دوسروں کے خیالات سے متاثر ہے۔ادنی غور سے یہ بات معلوم ہوسکتی ہے کہ یہ خیال بھی بالکل باطل ہے۔جس چیز کو خدا تعالیٰ نے سچائی کے ظاہر کرنے کے لئے بطور دلیل مہیا کیا ہے اس سے فائدہ نہ اٹھانا تو خدا اور اس کے دین سے غداری ہے اور نبی غدار نہیں ہوتا۔پس اس قسم کے اعتراضات خواہ وہ پہلے نبیوں پر ہوئے ہوں یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہوئے ہوں یا آپ کے بعد کسی کے متعلق ہوں با لکل لغو ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آیت زیر تفسیر میں نہایت عمدگی سے اس کو رڈ کر دیا ہے۔اور فرماتا ہے کہ وہ باتیں بھی ہماری کتاب میں موجود ہیں جن کو تم بیان کرتے ہو اور وہ باتیں بھی موجود ہیں جن کو تم بیان نہیں کرتے یا بیان نہیں کر سکتے۔خدا تو ساری ہی باتوں سے واقف ہے اس کی طرف سے آنے والی کتاب کسی کے بتائے ہوئے علم کی محتاج نہیں۔مگر وہ یہ بھی تو نہیں کر سکتی کہ چونکہ کسی اور نے ایک علم کا اظہار کر دیا ہے اس لئے خدا کی کتاب میں سے اس علم کو خارج کر دینا چاہئے۔اس سے تو سچائی کا خون ہو گا اور خدا کی کتاب ایسی حرکات سے بالا ہوتی ہے۔(تفسیر کبیر جلد اول ص ۳۵ ۲۵ ۵۳۷ ) ☆ کفار اور دیگر مخالفین نے آپ پر اعتراض کیا اور یہ آج تک مسلسل اعتراض ہوتا آرہا ہے کہ آپ نے قرآن کسی سے سیکھا اور علماء یہود و نصاری سے علمی معاونت حاصل کی۔اس اعتراض کا بیان قرآن کریم کی سورۃ النحل آیت ۱۰۴ میں بھی ہے۔اس آیت کی تفسیر اور اعتراضات کے جواب دیتے ہوئے حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں: اس آیت میں کفار کا ایک اور اعتراض بیان کیا گیا ہے جو آج تک مسلمانوں اور مسیحیوں کا مختل نزاع بنا ہوا ہے۔میں آیت کا مفہوم بیان کرنے سے پہلے اس اعتراض کی حقیقت