آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 186
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 186 باب چهارم کیوں پھوڑتے تب تو چاہئے تھا کہ آپ ان کا بھانڈا پھوڑنے کی بجائے ان کے لئے ملاقاتوں کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔“ سورۃ البقرہ آیت ۷۸ کی تشریح میں بیان فرمایا: اس آیت میں بھی اس اعتراض کا جواب موجود ہے جو عیسائی مصنفین کی طرف سے کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں سے سن کر بائبل کے واقعات قرآن کریم میں نقل کر دیا کرتے تھے کیونکہ اس آیت میں اس قسم کے خیالات کی تردید کی گئی ہے اور یہ دعوی کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ ہر ضروری خبر اپنے رسول کو خود بتا دیتا ہے۔اور کہا گیا ہے کہ کیا یہودی یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ اسے بھی جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور اسے بھی جانتا ہے جو وہ ظاہر کرتے ہیں یعنی قرآن کریم میں ایسی اخبار بھی موجود ہے جو ان یہودیوں نے بیان نہیں کیں اور وہ بھی ہیں جو انہوں نے بیان کیں۔اس سے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جو انہوں نے بیان کی ہیں اگر وہ بیان نہ کرتے تب بھی اس سے قرآن کریم کے مضامین میں کمی نہیں آسکتی تھی۔مخالفین صداقت ہمیشہ سے ماموروں پر یہ اعتراض کرتے چلے آئے ہیں کہ وہ زمانہ کی رو کی پیداوار ہیں۔اس زمانہ میں جو خیالات زور پر ہوتے ہیں ان سے متاثر ہو کر وہ اپنے لئے ایک مقام تجویز کر لیتے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب کبھی خدا تعالیٰ کسی مامور کو مبعوث کرنے لگتا ہے اس کے آنے سے پہلے لوگوں کی توجہ ایک آنے والے مامور کی طرف پھیر دی جاتی ہے۔بعض سابق پیشگوئیوں کے متعلق لوگ خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ وہ اس زمانہ میں پوری ہوں گی۔اور بعض علامات سے وہ یہ استدلال کرنے لگ جاتے ہیں کہ اسی زمانہ میں وہ موعود مامور آئے گا اور ایسا ہونا ہی چاہیے کیونکہ بعثت مامور کے وقت اس کے ماننے کے لئے دنیا میں سامان پیدا کرنا ایک ضروری امر ہے جسے خدا تعالیٰ نظر انداز نہیں کرسکتا۔پس جب وہ مامور آتا ہے تو وہ ان پیشگوئیوں سے بھی فائدہ اٹھاتا ہے جن کی طرف اس کی آمد سے پہلے علماء زمانہ کی نگاہیں اٹھ چکی ہوتی ہیں۔اس سے یہ استدلال کر لینا کہ مامورین زمانہ کی پیداوار ہیں ایک نہایت ہی بو دا اعتراض ہے۔کیا ان معترضین کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالی کو نبی پہلے بھیجنا چاہئے اور