آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 185
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 185 باب چہارم اور مکہ میں رہتے تھے عیسائیت کے بارہ میں علم حاصل کیا تھا (لائف آف محمد ص ۶۷) اگر یہ بات درست ہے تو مدینہ میں آنے سے پہلے ہی آپ کو مسیحی تعلیم کا علم تھا اور مدینہ میں آکر جنت کے بارہ میں مسیحی تعلیم سے متاثر ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اگر واقعہ میں مسیحی اور یہودی غلام آپ ﷺ کو پرانے اور نئے عہد نامہ کی باتیں بتایا کرتے تھے تو یہ علم آپ کو مکہ میں ہی حاصل ہو جانا چاہتے تھے۔بات یہ ہے کہ یہودی اور نصرانی لٹریچر میں جنت کا کوئی ذکر نہیں۔اسرائیلی لوگوں کو اس دنیا کی زندگی سے ایسی الفت رہی ہے اور ان کی شاخ مسیحیت بھی اسی مرض میں مبتلا رہی ہے کہ اخروی زندگی کے بارہ میں ان کی کتب میں کوئی معین تعلیم موجود نہیں وہ سب ان وعدوں کو جو انبیا ءنے اخروی زندگی کے بارہ میں کئے ہیں اسی دنیا پر چسپاں کرتے چلے آئے ہیں۔پس ان سے کسی کا متاثر ہونا امر محال ہے۔ان کی کتب میں نہ ان مسائل پر بحث ہے اور نہ کوئی ان سے کچھ اخذ کر سکا ہے وہ تو اسی دنیا کی طرف راغب رہے ہیں جیسا کہ قرآن کریم ان کے حق میں فرماتا ہے کہ ضَلَّ سَعيهم في الحيوةِ الدُّنْيَا (الکہف (۱۰۵) یعنی ان کی تمام کوششیں اسی ة دنیا میں غائب ہو کر رہ جاتی ہیں پس اگر کوئی ان سے اس بارہ میں حاصل کرنا بھی چاہے تو کچھ حاصل نہیں کر سکتا۔ہاں قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جس نے ان مسائل پر سیر کن بحث کی ہے جو اپنے اپنے موقع پر بیان ہوگی۔“ ( تفسیر کبیر جلد اس ۲۵۵) سورۃ البقرہ کی آیت کی تشریح میں حضرت مصلح موعو داس اعتراض کے جواب میں بیان فرماتے ہیں:۔اس آیت میں ان لوگوں کا بھی جواب ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں سے سن سنا کر بائبل کے واقعات قرآن کریم میں لکھ دیئے ہیں۔ظاہر ہے کہ اس قسم کا کام کرنے والا شخص اس ذریعے کو جس سے وہ فائدہ اٹھاتا ہے بڑھانے کی کوشش کیا کرتا ہے نہ کہ کم کرنے کی۔اگر نعوذ باللہ من ذالک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں سے سن کر قرآن کریم میں واقعات لکھ لیا کرتے تھے تو آپ یہود کے اس فعل کا بھانڈا