آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 184
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 184 باب چہارم سے باہر ہے اور اُن پر یقین کا دروازہ ایسا کھل گیا تھا کہ ان کے حق میں خدا نے فرمایا يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعرِفُونَ أبناء هذا (البقره: ۱۴۷) یعنی اس نبی کو ایسا شناخت کرتے ہیں کہ جیسا اپنے بیٹوں کو شناخت کرتے ہیں اور حقیقت میں یہ دروازہ یقین اور معرفت کا کچھ ان کے لئے ہی نہیں کھلا بلکہ اس زمانہ میں بھی سب کے لئے کھلا ہے کیونکہ قرآن شریف کی حقانیت معلوم کرنے کے لئے اب بھی وہی معجزات قرآنیہ اور وہی تاثیرات فرقانیہ اور وہی تائیدات غیبی اور وہی آیات لاریسی موجود ہیں جو اس زمانہ میں موجود تھی خدا نے اس دین قویم کو قائم رکھنا تھا اس لئے اس کی سب برکات اور سب آیات قائم رکھیں اور عیسائیوں اور یہودیوں اور ہندوؤں کے ادیان حرفہ اور برکت نمائیت اور تائیدات سماویہ کا نام ونشان نہ رہا۔ان کی کتابیں ایسے نشان بتلا رہی ہیں جن کے ثبوت کا ایک ذرا نشان اُن کے ہاتھ میں نہیں صرف گزشتہ قصوں کا حوالہ دیا جاتا ہے مگر قرآن شریف ایسے نشان پیش کرتا ہے جن کو ہر یک شخص دیکھ سکتا ہے۔مد امین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد نمبر اصفحه ۷۶ ۵ تا ۵۹۲) ☆ عیسائیوں کا آپ پر اعتراض کہ آپ نے یہو دونصاری علماء سے تعلیم پائی اور بعض نظریات بھی بدلے چنانچہ سرولیم میور کے اس اعتراض کو نقل کر کے حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں: معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے تو یہودونصاری کے اثر سے انہوں نے جنت کے بارہ میں اپنے کلام کو بدل دیا کسی نے بیچ کہا ہے کہ دروغ گورا حافظه نباشد مسیحی مصنف کفار مکہ کے اسی اعتراض کو بڑی وقعت دیتے ہیں کہ محمد رسول اللہ کو کوئی اور شخص سکھاتا ہے اور اس پر زور دیتے ہیں کہ بعض مسیحی لوگ جو غلام تھے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو یحی کتب کی باتیں بتاتے تھے اور کبھی وہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ آپ نے ایک مسیحی راہب سے اپنی جوانی میں مسیحی مذہب کی تعلیم حاصل کی تھی اور اسے قرآن میں نقل کر دیا۔سرولیم میور نے اپنی کتاب میں اس امر کی تصدیق کی ہے کہ آپ نے صہیب رضی اللہ عنہ سے جو ایک رومی غلام تھے