آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 183
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 183 باب چہارم وَالْخَوَافِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ (حم السجدة ٢٧) وقالت طيفَةُ مِنْ أَهْلِ الكتب امِنُوا بِالَّذِي أُنْزِلَ عَلَى الَّذِينَ امنوا وجة النهار واكفَرُوا أَخِرة تعلم يَرْجِعُونَ (آل عمران ۷۳) یعنی کافروں نے یہ کہا کہ اس قرآن کومت سنو۔اور جب تمہارے سامنے پڑھا جاوے تو تم شور ڈال دیا کرو۔تا شاید اسی طرح غالب آ جاؤ۔اور بعضوں نے عیسائیوں اور یہودیوں میں سے یہ کہا کہ یوں کرو کہ اول صبح کے وقت جا کر قرآن پر ایمان لے آؤ۔پھر شام کو اپنا ہی دین + اختیار کر لو نا شاید اس طور سے لوگ شک میں پڑ جائیں اور دین اسلام کو چھوڑ دیں۔أَلَمْ تَرَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا نَسِبٌ من الكتب يُؤْمِنُونَ بِالْجِبَتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُوْلُوْنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَواءِ أَهْلَى مِنَ الَّذِينَ امنوا سبيلا أوليك الذين لعنهم الله وَمَن يَلْعَنِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ نَصِيرًا سورة النساء الجز نمبر ۵ (النساء:۵۳٬۵۲) کیا تو نے دیکھا نہیں کہ یہ عیسائی اور یہودی جنہوں نے انجیل اور تو رات کو کچھ ادھورا سا پڑھ لیا ہے ایمان ان کا دیوتوں اور بھوں پر ہے اور مشرکوں کو کہتے ہیں کہ ان کا مذ ہب جوبت پرستی ہے وہ بہت اچھا ہے اور توحید کامذہب جو مسلمان رکھتے ہیں یہ کچھ نہیں یہ وہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے اس کے لئے کوئی مددگار نہیں۔اب خلاصہ اس تقریر کا یہ ہے کہ اگر آنحضرت امی نہ ہوتے تو مخالفین اسلام بالخصوص یہودی اور عیسائی جن کو علاوہ اعتقادی مخالفت کے یہ بھی حسد اور بغض دامنگیر تھا کہ بنی اسرائیل میں سے رسول نہیں آیا بلکہ ان کے بھائیوں میں سے جو بنی اسماعیل ہیں آیا وہ کیونکر ایک صریح امر خلاف واقعہ پا کر خاموش رہتے بلا شبہ ان پر یہ بات بکمال درجہ ثا بت ہو چکی تھی کہ جو کچھ آنحضرت کے مونہہ سے لکھتا ہے وہ کسی اُمی اور نا خواندہ کا کام نہیں اور نہ اس میں آدمیوں کا کام ہے تب ہی تو وہ اپنی جہالت سے دَعَاهُ عَلَيْهِ قَوْم أَخَرُونَ (الفرقان (۵) کہتے تھے اور جواُن میں سے دانا اور واقعی اہل علم تھے وہ بخوبی معلوم کر چکے تھے کہ قرآن انسانی طاقتوں