آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 182
محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 182 باب چہارم پہلے تو قرآن کے قصوں کو سن کر جن میں بنی اسرائیل کے پیغمبروں کا ذکر تھا اس وہم میں پڑے کہ شاید ایک شخص اہل کتاب میں سے پوشیدہ طور پر یہ قصے سکھانا ہوگا جیسا اُن کا یہ مقولہ قرآن شریف میں درج ہے۔اِنَّمَا يُحَدِّمه بشر - سورة الحل الجز و نمبر ۱۴ (الحل:۱۰۴) اور پھر جب دیکھا کہ قرآن شریف میں صرف قصے ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے حقائق ہیں تو پھر یہ دوسری رائے ظاہر کی وَأَعَاتَه عَلَيْهِ قَوْم أَخَرُونَ - سورة الفرقان الحجز ونمبر ۱۸-(الفرقان :۵) یعنی ایک بڑی جماعت نے متفق ہو کر قرآن شریف کو تالیف کیا ہے ایک آدمی کا کام نہیں۔پھر جب قرآن شریف میں ان کو یہ جواب دیا گیا کہ اگر قرآن کو کسی جماعت علماء فضلا اور شعرا نے اکٹھے ہوکر بنایا ہے تو تم بھی کسی ایسی جماعت سے مدد لے کر قرآن کی نظیر بنا کر دکھلاؤ تا تمہارا سچا ہونا ثابت ہو تو پھر لا جواب ہو کر اس رائے کو بھی جانے دیا اور ایک تیسری رائے ظاہر کی اور وہ یہ کہ قرآن کو جنات کی مدد سے بنایا ہے یہ آدمی کا کام نہیں پھر خدا نے اس کا جواب بھی ایسا دیا کہ جس کے سامنے وہ چون و چرا کرنے سے عاجز ہو گئے جیسا فرمایا ہے۔وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَمَيْنِ وَمَا هو يقول شيطان رجيم فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ (الكور: ۲۵-۲۷) قُلْ نَينِ اجْتَمَعَبُ الإِتُ وَالْجِنُّ عَلَى أَن يَأْتُوا بِلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كان بعضهم لبعض ظهيرا - سورة بنی اسرائیل الجز و نمبر ۱۵ ( بنی اسرائیل :۸۹ ) یعنی قرآن ہر ایک قسم کے امور غیبیہ پرمشتمل ہے اور اس قدر ہلانا جنات کا کام نہیں۔ان کو کہہ دے کہ اگر تمام جن متفق ہو جائیں اور ساتھ ہی بنی آدم بھی اتفاق کر لیں اور سب مل کر یہ جا ہیں کہ مثل اس قرآن کے کوئی اور قرآن بنا دیں تو ان کے لئے ہر گز ممکن نہیں ہو گا اگر چہ ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں۔پھر جب ان بد بختوں پر اپنے تمام خیالات کا جھوٹ ہو نا کھل گیا اور کوئی بات بنتی نظر نہ آئی تو آخر کار کمال بے حیائی سے کمینہ لوگوں کی طرح اس بات پر آگئے کہ ہر طرح پر اس تعلیم کو شائع ہونے سے روکنا چاہئے جیسا اس کا ذکر قرآن شریف میں فرمایا ہے:۔وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآنِ